انوارالعلوم (جلد 23) — Page 489
انوار العلوم جلد 23 489 نوجوانوں میں لیڈر شپ کی اہلیت کی اہمیت ترقی کا سلسلہ لامتناہی ہے قومی اعتبار سے ترقی کا کوئی مقام ایسا نہیں ہو تا جسے انتہائی منزل سے تعبیر کیا جاسکے۔ دُنیا میں کوئی قوم بھی ایسی نہیں گزری کہ جو یہ دعویٰ کر چکی ہو کہ وہ ترقی کے اس مقام تک پہنچ گئی ہے کہ جس سے آگے ترقی کرنا ممکن نہیں ہے۔ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی یہ شان بیان فرمائی ہے کہ محل يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنِ کہ وہ ہر روز ایک نئی حالت میں ہوتا ہے۔ شَأْنِ اسی چیز کو کہیں گے جو غیر متوقع اور غیر معمولی ہو۔ تو كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ کا مطلب یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ کی صفات ایسی ہیں کہ ان کے مطابق وہ ہر روز دنیا میں تبدیلیاں پیدا کر رہا ہے لیکن وہ تبدیلیاں غیر معمولی ہوتی ہیں اور پہلے سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔ پس انسان بھی جسے اس نے دنیا میں امور کی سر انجام دہی کے لئے ایک واسطہ بنایا ہے۔ جہدِ مسلسل کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ کوئی مقام ایسا نہیں آسکتا جس کے بعد وہ اپنے آپ کو جد وجہد اور عمل و کوشش سے بے نیاز سمجھنے لگے۔ اسی امر کے لئے کہ اس کی جدو جہد اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج پر منتج ہو۔ ضروری ہے کہ وہ خیال آرائی اور بلند پروازی سے کام لے۔ جب بھی وہ بلند پروازی اور خیال آرائی سے کام لینا چھوڑ دے گا اس کی سب کوششیں بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی۔ بلند پروازی کی تعریف غلام قوم میں سب سے بڑی برائی یہی ہوتی ہے کہ وہ غور و فکر کی عادت کھو بیٹھتی ہے۔ اس کے افراد صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک حال میں ہی محو رہتے ہیں اور مستقبل کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتے اور اگر کبھی اس طرف متوجہ ہوتے بھی ہیں تو بے حقیقت اور خیالی باتوں سے آگے نہیں جاتے۔ کوئی پروگرام اور کوئی سکیم ان کے مد نظر نہیں ہوتی۔ محض ایک خیال دل میں پیدا ہوتا ہے جسے عملی جامہ پہنا کبھی نصیب نہیں ہوتا۔ حالانکہ سکیم اس کو کہتے ہیں کہ فلاں چیز ملنی ممکن ہے اسے حاصل کرنے کے لئے فلاں فلاں ذرائع کی ضرورت ہے اور وہ ذرائع فلاں فلاں نوعیت کی کوشش کے بغیر مہیا نہیں ہو سکتے۔ تو گویا ذرائع معلوم کرنے کے بعد یہ سوچنا کہ ان ذرائع کو کیونکر فراہم کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بلند پروازی کہلاتی ہے۔