انوارالعلوم (جلد 23) — Page 446
انوار العلوم جلد 23 446 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ پورا فائدہ نہیں اُٹھایا جاسکتا۔ اسی لئے احمدیوں نے اپنا الگ مرکز بنایا ہے۔ اِس سے کوئی سیاسی غرض یا مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی غرض کہاں سے نکلی۔ جماعت اسلامی کا مجوزہ مرکز سب سے زیادہ معترض اس پر مولانا مودودی ہیں لیکن مولانا مودودی نے خود بھی ایسا ہی مرکز بنایا ہے اور اس میں بھی یہی شرط رکھی ہے کہ اس میں صرف جماعت اسلامی کے لوگ ہی زمین خرید سکتے ہیں۔ ہم ان کا اعلان ذیل میں درج کرتے ہیں۔ طفیل محمد قیم جماعت اسلامی لکھتے ہیں :- خرید تمام وہ لوگ جنہوں نے مرکز جماعت اسلامی میں اراضی کی رید کے لئے رقوم جمع کرائی تھیں مطلع ہوں کہ کیمل پور سٹیشن سے دو فرلانگ کے فاصلہ پر راولپنڈی کیمل پور کی پختہ سڑک کے اُوپر جماعت نے ایک سو ایکڑ زمین خرید لی ہے۔ یہ زمین ہمیں چار سو روپے ایکڑ کے حساب سے مل گئی ہے لیکن خرید اراضی کے اس وقت تک کے اور آئندہ پلاٹ بنا کر تقسیم تک کے مصارف ملا کر غالباً پانچ سو روپے یا اس سے کم و بیش فی ایکڑ تک قیمت چڑھ جائے گی۔ زمین بارانی مگر مزروعہ ہے اور پانی بہت زیادہ گہرائی میں ہے۔ اس لئے ٹیوب ویل لگائے بغیر چارہ نہیں اور اس پر بھی شاید کثیر رقم صرف ہو گی۔ تعمیر کا کچھ سامان خرید اجا چکا ہے اور بھٹے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس وقت ہمارے پاس ساٹھ ایکڑ اراضی قابلِ فروخت ہے لیکن مجلس شوری نے فیصلہ کیا ہے کہ اب صرف ارکانِ جماعت کو ہی مرکز میں اراضی خریدنے کی اجازت دی جائے اور وہ بھی صرف دو كنال فی کس کے حساب سے۔ جس میں سے ایک کنال حسب قاعدہ جماعت لے لے گی اور ایک کنال خریدار کے پاس رہ جائے گی۔ جو لوگ پہلے سے خریدار بنے ہوئے ہیں اور اُن کی رقمیں مرکز میں موجود ہیں