انوارالعلوم (جلد 23) — Page 438
انوار العلوم جلد 23 438 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ وو پیش کر دہ عبارت سے آگے درج ہیں) صاف ظاہر ہے کہ مجلس عمل کی پیش کر دہ عبارت میں ”دشمن“ کے لفظ سے بھی گالیاں دینے والے بد زبان پادری اور اُن کی وہ عورتیں تھیں جن کا عبارت ”الف“ میں ذکر ہے۔ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گندی اور پلید گالیاں دیں اور مسلمانوں کے دلوں کو دکھایا اور ” ینابیع الاسلام اور امهات المسلمین نامی فحش سے بھری ہوئی کتابیں شائع کر کے کئی مسلمانوں کو مرتد کیا۔ پس مجلس عمل نے اس عبارت کو پیش کر کے اور عوام الناس کو یہ بتا بتا کر کہ اے مسلمانو ! تم کو مرزا صاحب نے سور اور تمہاری عورتوں کو کُتیاں قرار دیا ہے۔ ناحق اشتعال دلایا اور فساد برپا کیا۔ حالانکہ غیر احمدی مسلمانوں کو اِس کتاب میں اور مجلس عمل کی پیش کردہ عبارت از صفحہ 10 سے چند سطریں پہلے صفحہ 9 و صفحہ 11 پر تمام مسلمانوں کو اپنے بھائی قرار دیا ہے اور صفحہ 4 پر لکھا ہے :- ” اور میں خادموں کی طرح اس کام کے لئے اسلامی جماعت کے کمزوروں کے لئے کھڑا ہوں“۔ گویا اپنے آپ کو مسلمانوں کا خادم قرار دیا ہے۔ پس یہ الزام بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کہ آپ نے عام مسلمانوں کو نَعُوذُ بِاللہ۔ خنزیر وغیرہ الفاظ سے یاد کیا ہے بلکہ اس پروپیگنڈا کی ایک اور واضح مثال ہے جو مجلس عمل اور مجلس احرار کے ممبر ان عام اور ہے جو عمل تنویر مجلس احرار کے ممبر ان عالم ناواقف مسلمانوں میں کرتے رہے اور جس کے نتیجہ میں یہ فسادات رونما ہوئے۔ (ذ) اب آخری گزارش یہ ہے کہ اگرچہ ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں کہ اس عبارت میں صرف بد زبان عیسائی پادریوں اور اُن کی مبالغہ عورتوں کا ذکر ہے لیکن اگر نجم الھدی میں ان کا بالصراحت ذکر نہ بھی ہو تا تب بھی کم از کم اتنا تو خود اس عبارت سے ہی ظاہر ہے کہ اس میں مسلمانوں کا ذکر نہیں بلکہ اُن گالیاں دینے والے ”دشمنوں کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ مسلمانوں میں سے بھی بوقت تحریر کتاب نجم الهدی (1898ء میں) آپ کو گالیاں دینے والے معدودے چند مولوی ہی تھے نہ کہ عام مسلمان۔ تو اس