انوارالعلوم (جلد 23) — Page 435
انوار العلوم جلد 23 435 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مخاطب غیر احمدی نہیں ہیں اور اس کا درست ترجمہ بھی وہ نہیں ہے جو مجلس احرار پیش کرتی ہے بلکہ اس کا ترجمہ ہدایت سے دُور اور سرکش انسان ہے۔ چنانچہ لاہور سے احمد یہ فیلوشپ آف یوتھ نے ”گالی اور اظہار واقعہ میں فرق“ نامی ایک اشتہار 34-1933ء میں شائع کیا جو الفضل میں بھی شائع ہوا۔ احمدیہ پاکٹ بک ایڈیشن دسمبر 1934ء کے صفحہ 672 پر مفصل طور پر وایڈیشن 1945ء کے صفحہ 962 وایڈیشن 1952ء کے صفحہ 904 پر یہی اعلان کیا گیا۔ الفضل میں شائع ہوا۔ پروفیسر الیاس برنی کی کتاب ”قادیانی مذہب“ کا جواب 1934-35ء میں شائع ہوا۔ اس میں بھی صفحہ 322 پر یہی تحریر کیا گیا۔ چنانچہ پروفیسر الیاس برنی صاحب نے اپنی کتاب ” قادیانی مذہب“ کے بعد کے ایڈیشنوں میں قادیانی حساب صفحہ 24 تا صفحہ 27 پر جو سب کے سب فسادات سے پہلے شائع ہو چکے تھے خود یہ تحریر کیا کہ :- رو ”جماعت احمدیہ کا جواب یہ ہے کہ اس لفظ کا ترجمہ ” ہدایت سے دور اور سرکش انسان“ ہے۔ کنجریوں کی اولاد نہیں“۔ پس با وجود اس قدر متواتر اور بار بار تردید کے اگر احرار اور اُن کے ہمنواؤں نے اپنی اشتعال انگیزی کی مہم کو تیز کرنے کے لئے اس حوالہ کو استعمال کیا تو اس سے فسادات کی ذمہ داری اُن پر ہے۔ محم کا حوال ال نجم الهدی صفحہ 10 کا حوالہ اسی طرح کہا گیا ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمد یہ نے نجم الھدیٰ صفحہ 10 پر تمام غیر احمدی مسلمانوں کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ میرے دُشمن خنزیر ہیں اور اُن کی عور تیں کُتیاں ہیں۔ خنزیر کا لفظ قرآن کریم میں بھی اپنے مخالفوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ 403 علاوہ ازیں مجلس عمل کی طرف سے نجم الھدیٰ صفحہ 10 میں جو حوالہ دیا گیا ہے وہ نا مکمل ہے۔ اُنہوں نے اگلی سطر نقل نہیں کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی پیش کردہ عبارت میں اُن کے نہ ماننے والوں کا ذکر نہیں ہے بلکہ صرف