انوارالعلوم (جلد 23) — Page 432
انوار العلوم جلد 23 وو ” ولد الزنا“ کے ہیں۔ 397 432 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ فَالْحَاصِلُ أَنَّ الزَنِيمَ هُوَ وَلَدُ الزِّنَاءِ“۔ یعنی زنیم کے معنی 4- تفسیر حسینی مترجم اردو موسومه به تفسیر قادری جلد 2 صفحہ 564 میں لکھا ہے :- زنیم حرامزادہ نطفہ نا تحقیق کہ اُس کا باپ معلوم نہیں “۔ لیکن عام طور پر علماء اور مفسرین نے اس کے معنی بد فطرت اور شریر انسان یا ایسی قوم کی طرف منسوب ہونے والا جس میں سے وہ در حقیقت نہ ہو ہی کئے ہیں جو احتیاط کے پہلو سے نرمی کے زیادہ قریب ہیں۔ 398 ذریۃ البغایا کے متعلق حضرت امام باقر کا حوالہ ہیں انصاف اور امن پسندی کا اقتضاء یہ تھا کہ مخالفین اس ذریۃ البغایا کا ایسا مفہوم نہ لیتے جو منشائے متکلم کے بھی خلاف ہے، عبارت کے سیاق و سباق کے بھی خلاف ہے، واقعات کے بھی خلاف ہے اور جماعت احمد یہ کے موقف کے بھی بر خلاف ہے۔ شیعوں کے مشہور امام حضرت امام محمد باقر فرماتے ہیں:۔ ہیں۔ اے النَّاسُ كُلُّهُمْ أَوْ لَا دُبَغَايَا مَا خَلَا شِيْعَتُنَا _ 399 ابو حمزہ! خدا کی قسم ہمارے شیعوں کے سوا باقی تمام لوگ اولادِ بغایا“ اس عبارت میں بعینہ وہی لفظ اولادِ بغایا غیر شیعوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے جو آئینہ کمالات اسلام کی عبارت زیر بحث میں ہے۔ حضرت امام باقر کی مندرجہ بالا عبارت جب ذرية البغایا کے بارے میں اعتراض کے جواب میں جماعت احمدیہ کی طرف سے احرار کے سامنے پیش کی گئی تو مجلس 66 احرار کے ترجمان اخبار ”مجاہد “ نے اس کا مندرجہ ذیل جواب دیا :- ولد البغایا، ابن الحرام اور ولد الحرام۔ ابن الحلال اور بنت الحلال وغیرہ سب عرب کا اور ساری دُنیا کا محاورہ ہے جو شخص نیکی کو