انوارالعلوم (جلد 23) — Page 411
انوار العلوم جلد 23 411 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ اسلام کے نہایت پاک اور ضروری حکم جہاد کو جو موجودہ مہذب دنیا کی تعلیمات و اصولِ جنگ سے بھی بہتر اور نہایت منصفانہ اور عادلانہ تھا اور ہے ان علماء نے نہایت مکروہ اور ظالمانہ اور وحشیانہ شکل دے دی تھی۔ اس زمانہ کا مامور تو الگ رہا ہر محب اسلام کا فرض تھا اور ہے کہ اس کی تردید کرے اور اس تردید کو تمام عالم میں پھیلائے تا کہ اسلام کے چہرہ سے یہ بد نما داغ دور ہو جائے۔ چونکہ اس مضمون پر خاص زور دیا گیا ہے اور بعض زائد حوالے دونوں طرف سے عدالت عالیہ میں پیش ہوئے ہیں اس لئے ہم ایک ضمیمہ ساتھ لگا رہے ہیں جو جہاد کے متعلق دوسرے حوالوں سے بحث کرتا ہے۔ اِس اعتراض کا جواب کہ جماعت احمد یہ آخر میں ہم یہ لکھ دینا بھی کو اسلام سے کوئی ہمدردی نہیں ضروری سمجھتے ہیں کہ متیس سالہ ”جہاد“ چونکہ جہاد کے متعلق جماعتِ احمدیہ کے مسلک کو نہایت واضح کر دیتا ہے اس لئے ہم اس رسالہ کی ایک کاپی اپنے بیان کے ساتھ شامل کئے دیتے ہیں۔ اگر آنریبل حجز اس رسالہ پر نظر ڈالیں گے تو ان پر ساری حقیقت کھل جائے گی۔ اس اعتراض کا پس منظر اصل میں یہ ہے کہ احمد یہ جماعت انگریزوں کی قائم کر دہ ہے اور اس کو اسلام سے کوئی ہمدردی نہیں۔ ہم اس کے جواب میں وہ نوٹ پیش کر دینا کافی سمجھتے ہیں جو ہندوستان کے ایک مانے ہوئے عالم اور اخبار وکیل امر تسر کے ایڈیٹر مولانا عبد اللہ العمادی نے 1908ء میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات پر شائع کیا تھا۔ یہ وہ شخص ہے جو مسلمان لیڈروں میں بڑی حیثیت رکھتا تھا اور جو بانی سلسلہ احمدیہ کا ہمعصر تھا اور جس کے سامنے اُن کی زندگی کے حالات گزرے تھے۔ اس کے مقابلہ میں بعد کو آنے والے لوگوں کے بیان کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ وہ نوٹ یہ ہے :- ” وہ شخص بہت بڑا شخص ۔ جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔ وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔ جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔