انوارالعلوم (جلد 23) — Page 404
انوار العلوم جلد 23 404 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ بلکہ خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمادی تھی کہ مسیح موعود کے زمانہ میں دینی جنگیں ختم ہو جائیں گی لیکن اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جس جہاد سے آپ نے روکا ہے وہ جہاد بالسیف ہے اور جہاد بالسیف سے زیادہ تاکیدی حکم جہاد بالقر آن کا ہے جس میں آپ ساری عمر مشغول رہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ جَاهِدُهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا - 358 یعنی قرآن کریم کے ساتھ تم غیر مسلموں کا مقابلہ کرو اور یہی بڑا جہاد ہے۔ چنانچہ اس آیت کے ماتحت تفسیر روح المعانی جلد 6 صفحہ 162 پر لکھا ہے :- أَيْ بِالْقُرْآنِ وَ ذَلِكَ بِتِلَاوَةٍ مَا فِيْهِ مِنَ الْبَرَاهِيْنَ وَالْقَوَارِعِ وَ الزَّوَاجِرِ وَالْمَوَاعِظِ وَ تَذْكِيْرِ أَحْوَالِ الْأُمَمِ الْمُكَذِّبَةِ فَإِنَّ دَعْوَةَ كُلُّ الْعَالَمِينَ عَلَى الْوَجْهِ الْمَذْكُورِ جِهَادٌ كَبِيرٌ یعنی اس جگہ پر جہاد سے مراد قرآن کریم کے ذریعہ سے جہاد کرنا ہے اور یہ اس طرح ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں جو براہین اور کفر کے خلاف باتیں ہیں اسی طرح جن خلاف اخلاق اُمور پر زجر کیا گیا ہے اور جو جو نصائح کی گئی ہیں اُن سب کو پڑھا جائے اور نبیوں کی منکر اُمتوں کے احوال بیان کر کر کے لوگوں کو نصیحت کی جائے کیونکہ دُنیا کے تمام انسانوں کو اس طریق سے اسلام کی طرف بلانا ہی سب سے بڑا جہاد ہے۔ بانی سلسلہ احمدیہ کی تائید یہ مذہب جو آپ کا جہاد کے متعلق ہے اس میں میں علماء اسلام کے حوالے بانی سلسلہ احد ہ منفرد نہیں بلکہ دیگر علاء اسلام یہ بھی اسی قسم کا مذہب رکھتے تھے۔ چنانچہ مفردات راغب والے لکھتے ہیں: الْجِهَادُ ثَلَاثَةُ اضْرَبٍ مُجَاهَدَةُ الْعَدُةِ الظَّاهِرِ وَ مُجَاهَدَةُ الشَّيْطَانِ وَ مُجَاهَدَةُ النَّفْسِ - 359 یعنی جہاد تین قسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جہاد ہے جو اُس کھلے دشمن سے کیا جائے جو مسلمانوں سے لڑائی کرے۔ ایک وہ جہاد ہے جو شیطان سے کیا جائے اور ایک وہ جہاد ہے جو اپنے نفس سے کیا جائے۔