انوارالعلوم (جلد 23) — Page 392
انوار العلوم جلد 23 392 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقْتِلُوْكُمْ فِيْهِ ۚ فَإِنْ قَتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَفِرِينَ فَإِنِ انْتَهَوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ وَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ وَقُتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَ يَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّلِمِينَ - 339 اور اللہ تعالیٰ کے رستہ میں اُن لوگوں سے لڑوجو حد سے تم سے لڑتے ہیں لیکن دفاعی جنگ میں بھی حد حد سے مت بڑھو ڈھو کیونکہ اللہ تعالیٰ حد بڑھنے والوں سے پیار نہیں کرتا اور تم جہاں بھی اُن کو پاؤ اُن سے جنگ کرو اور جن علاقوں سے اُنہوں نے تم کو نکال دیا ہے تم بھی اُن کو وہاں سے نکال دو اور دین کے معاملہ میں ظلم ک ظلم کرنا قتل سے بھی زیادہ سخت ہے اور تم اُن سے کبھی بھی مسجد حرام کے علاقہ میں نہ لڑو۔ سوائے اس کے کہ وہ اس علاقہ میں تم سے لڑائی کریں۔ اگر وہ تم سے اس علاقہ میں لڑائی کریں تو تم کو بھی اجازت ہے کہ تم بھی اس علاقہ میں اُن سے لڑو۔ الہی احکام کا انکار کرنے والوں کو یہی سزا ہوتی ہے لیکن اگر وہ لڑائی سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ہر ایک کی غلطیوں کو معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اور تم اُن سے لڑو یہاں تک کہ دین کے معاملہ میں ظلم کرنا بند ہو جائے اور اطاعت اور فرمانبرداری صرف اللہ کے لئے باقی رہے۔ لوگ اپنے خیالات اور اپنے عقیدوں کو جبرالوگوں پر نہ ٹھونسیں) اگر وہ لوگ ان باتوں سے باز آجائیں تو سختی اور مقابلہ صرف اُن لوگوں کے لئے جائز ہے جو ظلم کرتے ہوں، دوسروں کے لئے نہیں۔ یہ آیت بھی کتنی واضح ہے۔ اس میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ صرف اُن لوگوں سے جنگ جائز ہے جو کہ لڑتے ہیں اور اُن سے بھی حدود اور مطالبات انسانیت کے ما تحت جنگ جائز ہے۔ اس سے آگے گزرنا جائز نہیں اور انہی علاقوں میں جنگ جائز ہے جن علاقوں میں دشمن جنگ کریں اور دین کے معاملہ میں دخل نہ دُشمن کے لئے جائز ہے نہ مؤمن کے لئے جائز ہے اور مسلمان کو جنگ میں اتنی احتیاط کرنی چاہئے کہ مقدس مقامات کے قریب جنگ نہ کرے۔ سوائے اس کے کہ دُشمن اُسے مجبور کر دے اور جب دشمن جنگ سے رُکے تو پھر مسلمانوں کو بھی رُک جانا چاہئے اور یہ کہ اسلامی جنگ محض اس لئے ہوتی ہے کہ دین کے معاملہ میں کسی کو دُکھ میں ڈالنے سے روکا جائے اور دین کے