انوارالعلوم (جلد 23) — Page 387
انوار العلوم جلد 23 387 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مولانا ظفر علی خان صاحب کا ارشاد مولانا ظفر علی خان ہندوستان کو دار الاسلام قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:۔ مسلمان ایک لمحہ کے لئے بھی ایسی حکومت سے بدظن ہونے کا خیال نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی بد بخت مسلمان گورنمنٹ سے سرکشی کی جرات کرے تو ہم ڈنکے کی چوٹ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان مسلمان نہیں “۔ 334 پھر لکھتے ہیں :۔ زمیندار اور اس کے ناظرین گورنمنٹ برطانیہ کو سایہ خدا سمجھتے ہیں اور اس کی عنایت شاہانہ و انصاف خسروانہ کو اپنی دلی ارادت، قلبی عقیدت کا کفیل سمجھتے ہوئے اپنے بادشاہ عالم پناہ کی پیشانی کے ایک قطرے کی بجائے اپنے جسم کا خون بہانے کے لئے تیار ہیں اور یہی حالت ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی ہے “۔ 335 اس قسم کے اتنے حوالے موجود ہیں جو کئی جلدوں میں بھی نہیں سما سکتے۔ ان میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ کسی الزام و اتہام کو دور کرنے کی غرض سے نہیں بلکہ صرف انگریزی حکومت کے طریقہ عمل کی پسندیدگی کی وجہ سے ہے۔ اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو گورنمنٹ انگریزی کے بارہ میں جو بار بار لکھنا پڑا کے بارہ میں جو بار وہ بمقابلہ سکھ حکومت کے انگریزی حکومت کی بہتری کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ اس کی یہ وجہ بھی ہے کہ مسلمان مولوی اور دوسرے مذاہب والے خصوصاً عیسائی پادری آپ کے خلاف گورنمنٹ انگریزی میں جھوٹی شکایتیں کرتے رہتے تھے کہ آپ باطن گورنمنٹ انگریزی کے دُشمن ہیں اور موقع پا کر اُس کے خلاف جنگ کا اعلان کریں گے۔ اور گور نمنٹ انگریزی نبھی آپ کو اس وجہ سے شبہ کی نظر سے دیکھتی تھی کہ آپ کا دعویٰ مسیح موعود اور مہدی موعود ہونے کا تھا اور انگریزی حکومت اس قسم کے دعوے کی وجہ سے ان کی شکایت کو توجہ کی نظر سے دیکھتی تھی کیونکہ قریب ہی کے زمانہ