انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 384

انوار العلوم جلد 23 384 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ گویا تین صدیوں کی اسلامی حکومت کے دوران میں جس قدر مسلمانوں کی تعداد تھی صرف ایک صدی سے بھی کم زمانہ میں اس سے دس گنا بڑھ گئی۔ چنانچہ سر سید احمد خان، مولانا شبلی نعمانی، نواب محسن الملک بہادر، نواب وقار الملک بہادر ، نواب صدیق حسن خان اور دوسری عظیم شخصیتوں نے دورِ اوّل میں اور قائد اعظم محمد علی جناح نے دورِ آخر میں ہندوؤں کی غلامی پر انگریزوں کے تعاون کو ترجیح دی اور مندرجہ بالا قرآنی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے انگریزوں کی طرف دست تعاون بڑھایا۔ سر سید مرحوم نے انگریزی حکومت کو مسلمانوں کی وفاداری کا یقین دلانے کے لئے متعدد کتب و رسائل تصنیف کئے۔ مسلمانوں کی مغربی تعلیم میں ترقی کے لئے شبانہ روز کوششیں کیں جن کا نمونہ علی گڑھ یونیورسٹی کی صورت میں موجود ہے۔ چنانچہ احمدیت کا شدید ترین معاند اخبار ”زمیندار“ لاہور کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا ہے :۔ مہدی سوڈ 329" ان دنوں سیاست کا تقاضا یہی تھا کہ انگریز کی حمایت کی سوڈانی پھر یہ بات مد نظر رکھنی ضروری ہے کہ مہدی سوڈانی کی تحریک 1879ء اور اس کے برطانوی حکومت کے ساتھ تصادم کے باعث انگریزی قوم کے دل و دماغ پر یہ چیز گہرے طور پر نقش ہو چکی تھی کہ ہر مہدویت کے علم بردار کے لئے ضروری ہے کہ وہ تیغ و سنان ہاتھ میں لے کر غیر مسلموں کو قتل کرے۔ (ت) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے سامنے کوئی اسلامی حکومت نہ تھی۔ پاکستان کا آئیڈیا (Idea) بھی اس وقت تک پیدا نہیں ہوا تھا۔ اگر انگریز اُس وقت چلا جاتا تو اُس کی جگہ وہی حکومت قائم ہوتی جو آج ہندوستان میں قائم ہے۔ پاکستان کا نام و نشان بھی نہ ہوتا۔ کیا بانی سلسلہ احمدیہ کا یہی مجرم ہے کہ وہ اس قسم کی حکومت کے مقابلہ میں انگریزی حکومت کو ترجیح دیتے تھے۔ یہ تو مستقبل کا حال تھا اور ماضی قریب کا حال یہ تھا کہ بانی سلسلہ احمدیہ کے ملک میں سکھوں کی حکومت تھی جنہوں نے مسجدوں کے اصطبل