انوارالعلوم (جلد 23) — Page 338
انوار العلوم جلد 23 338 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اور آپ خود بھی لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہتے تھے اور اپنی جماعت کو بھی یہی پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے۔ اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ : احادیث نبویہ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ایک شخص پیدا ہو گا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا“۔ 226 اسی طرح فرماتے ہیں کہ :- بِخَيْرِ الْأُمَمِ فِي الْقُرْآن 227 جَعَلَ هَذِهِ الْأُمَّةَ كَأَنْبِيَاءِ الْأُمَمِ السَّابِقَةِ أَلَسْنَا یعنی اللہ تعالیٰ نے اِس اُمت میں پہلی اُمتوں کے انبیاء کی طرح کے بعض لوگ پیدا کئے ہیں۔ کیا قرآن کریم میں ہم کو خیر الامم نہیں قرار دیا گیا؟ ایساہی فرماتے ہیں: ہم ہوئے خیر امم تجھ سے ہی اے خیر رُسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے 228 جماعت احمدیہ کے موجودہ امام ہماری جماعت کے موجودہ امام نے بھی 66 کی طرف سے اس عقیدہ کا اظہار متواتر اس عقیدہ کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ 8 جولائی 1952ء کے ” المضلع میں ایک خط اور اُس کا جواب امام جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع ہوا۔ اس خط کا مضمون یہ ور ان کا احمدیہ کی سے شائع اس کا یہ ہے کہ ایک شخص نے امام جماعت احمد یہ کو لکھا کہ خواب میں مجھے مرزا صاحب نظر آئے اور اُنہوں نے کہا کہ ”میری اُمت کا مبلغ بن“۔ پھر خط لکھنے والے نے لکھا کہ ” بوجہ قلت و کمزوری مال بندہ غیر ملت میں پھنسا ہوا ہے۔ اِس لئے زیارت و فیض سے محروم ہے“۔ ہے: اس خط کا جو جواب امام جماعت احمد یہ نے دیا اور جو اسی اخبار میں شائع ہوا ہے وہ یہ ”خواب میں غلطی لگی ہے۔ مرزا صاحب کی کوئی اُمت نہیں۔