انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 336

انوار العلوم جلد 23 336 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ قیامت حق ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ ۔ کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ قدرِ خیر و شر حق ہیں۔ وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ اُنہیں چیزوں کے متعلق کہا جاتا ہے جن میں اختلاف ممکن ہو اور جائز ہو اور جو جزو ایمان نہ ہوں۔ ابی حفص عمر و بن الوردی کے اس بیان سے ثابت ہے کہ یہ عقیدہ مسلمانوں میں سینکڑوں سال سے رائج ہے۔ یہ صاحب آٹھویں صدی ہجری میں ہوئے ہیں۔ پس کم سے کم ہم کو یہ ماننا پڑے گا کہ آٹھ نو سو سال سے مسلمانوں میں یہ عقیدہ موجود ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل نہیں ہوں گے بلکہ اِسی اُمت میں سے ایک شخص آپ کے کمالات کو لے کر دنیا میں ظاہر ہو گا اور جو لوگ اس عقیدے کے قائل نہیں تھے بلکہ مسیح کے آسمان سے اُترنے کے قائل تھے وہ بھی مسیح کے آسمان سے اُترنے کے عقیدہ کو جزو ایمان نہیں سمجھتے تھے بلکہ اِس بات کا احتمال رکھتے تھے کہ شاید وہ اِسی اُمت میں سے ظاہر ہو جائے لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے تمام فرقے مسیح کی آمد ثانی کے منتظر تھے کیونکہ اُنہوں نے کوئی ایسا فرقہ نہیں لکھا جو مسیح کی آمد کا ہی منکر ہو۔ سوال نمبر 4 متعلق اعتراض نئی اُمّت و مسئلہ کفر و اسلام چوتھا اعتراض یہ ہے کہ مرزا صاحب نے ایک نئی اُمت بنائی ہے اور اپنے نہ ماننے والوں کو کافر اور خارج از اسلام کہا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو اشتعال آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ مرزا صاحب نے کوئی نئی اُمت بنائی بلکہ بار بار آپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ہوں اور ہماری جماعت کی طرف سے ہمیشہ ہی اس بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ اُمتِ محمد یہ ایک ہی ہے اور آپ بھی اس کے ایک فرد ہیں۔ چانچہ آپ کے الہاموں میں سے ایک الہام یہ ہے کہ رَبِّ أَصْلِحْ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ 220 کہ اے میرے رب ! اُمت محمدیہ کی اصلاح فرما۔ اگر آپ نے اپنی کوئی علیحدہ اُمت بنائی ہوتی تو پھر اُمتِ محمد یہ کی اصلاح کے لئے دُعا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ پھر تو آپ یہ کہتے کہ ”میری اُمت کی