انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 333

انوار العلوم جلد 23 333 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت عیسی زندہ ہیں، فوت نہیں ہوئے۔ 212 ہم اس فتوے کی ایک مطبوعه نقل معہ ترجمہ کے پیش کرتے ہیں۔ اصل مصری فتویٰ بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ مادری زبان عربی رکھنے والا جامعہ ازہر کا ایک ممتاز پروفیسر تو یہ کہتا ہے کہ اس لفظ کے معنی موت کے سوا کچھ نہیں لیکن ہمارے علماء جو عربی زبان کے دو فقرے بھی بولنے کی طاقت نہیں رکھتے پاکستان میں بیٹھ کر یہ کہتے ہیں کہ توفی کے معنی یہاں پر کچھ اور ہیں۔ صحابہؓ نے بھی توفی کے معنی موت کے ہی کئے ہیں۔ چنانچہ بخاری میں حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ مُتَوَفِّيكَ کے معنی ممیتگ کے ہیں۔ 213 اور امام مالک کا بھی قول ہے کہ مَاتَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ۔ حضرت عیسی بن مریم فوت ہو گئے ہیں۔ 214 15ہیں۔ اسی طرح علامہ ابن حزم کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ وفات پاچکے معراج کی حدیث میں بھی ذکر آتا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات تمام وفات یافتہ انبیاء کے ساتھ حضرت عیسی کو بھی دیکھا۔ 216 پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلے مسیح کا بھی خلیہ بیان کیا ہے اور آنے والے مسیح کا بھی خلیہ بیان کیا ہے اور دونوں خلیوں میں اختلاف ہے۔ پہلے مسیح کے متعلق فرماتے ہیں کہ فَأَمَّا عِيسَى فَأَحْمَرُ جَعْدٌ 217 یعنی مسیح ابن مریم کا رنگ سرخ تھا اور اُن کے بال گھنگھر والے تھے۔ اور آنے والے مسیح کے متعلق فرماتے ہیں کہ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعْرِ 218 اُس کا رنگ گندم گوں ہو گا اور اُس کے بال سیدھے ہوں گے۔ اس سے بھی صاف پتہ لگتا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ایک مثیل مسیح آنے والا ہے۔ پہلا مسیح فوت ہو چکا ہے اور اُس کے رنگ اور اخلاق اور کمالات کو لے کر ایک دوسرا شخص اس اُمت میں پیدا ہو گا۔ چونکہ مسیح کی آمد کا عقیدہ متواتر احادیث میں بیان کیا گیا ہے اور قرآن کریم میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا