انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 330

انوار العلوم جلد 23 330 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ آج تک کسی لغت میں سے ایسا حوالہ نکال کر کوئی مولوی صاحب یہ انعام نہیں لے سکے ہیں۔ ہم اس وقت پھر اس چیلنج کو دہراتے ہیں۔ یہ علماء بیٹھے ہیں۔ یہ اب بھی کہ بھی کسی لعنت میں سے یا کسی مشہور شاعر اور ادیب کے کلام میں سے کوئی ایسا حوالہ نکال کر دکھا دیں۔ بعض دفعہ یہ علماء علم کی کمی کی وجہ سے قرآن کریم کی بعض آیتیں ( ثم توفی كل نفس 209 و غیرہ ) پیش کر دیتے ہیں کہ ان میں قبض روح کے معنی نہیں ہیں۔ حالانکہ ان آیتوں کے الفاظ باب تفعل میں سے نہیں بلکہ باب تفعیل میں سے ہوتے ہیں اور عربی زبان میں اکثر بابوں کی تبدیلی سے معنی بدل جاتے ہیں۔ اسی طرح سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ الهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ قَالَ سُبْحَنَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقِّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۖ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَاَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ - 210 یعنی یاد کرو جب اللہ تعالی عیسی بن مریم سے کہے گا کہ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنالو۔ اس پر عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ آپ پاک ہیں، میرا کیا حق تھا کہ میں وہ بات کہتا جس کا مجھے حق نہ تھا۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو آپ کو اس کا علم ہوتا۔ آپ میرے دل کی بات جانتے ہیں مگر میں آپ کی بات کا پس منظر نہیں جانتا۔ آپ تو سب غیبوں کو جاننے والے ہیں۔ میں نے تو اُن سے وہی بات کہی تھی جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میر ابھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور جب تک میں اُن میں رہا اُن پر گواہ تھا پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو پھر آپ ہی اُن پر نگران تھے میں نہ تھا اور آپ ہر چیز کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس آیت میں حضرت مسیح کا صاف طور پر یہ فرمانا موجود ہے کہ میری وفات تک عیسائی نہیں بگڑے لیکن اب بگڑے ہوئے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام