انوارالعلوم (جلد 23) — Page 316
انوار العلوم جلد 23 316 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ آئے اختلاف نہیں بلکہ اختلاف صرف یہ ہے ہے کہ وہ نبی باہر سے آئے گا یا اُمت میں سے گا۔ ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ باہر سے آنے والا نبی یقینار رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح ممنون نہیں ہو گا جس طرح کہ وہ اُمتی جو آپ کی فرمانبرداری سے مقام نبوت پائے، آپ کا ممنون ہو سکتا ہے۔ پس احمدی جماعت کا عقیدہ اسلام کے عین مطابق اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو بڑھانے والا ہے۔ اور کم سے کم یہ ماننا پڑے گا کہ وہ اسلامی روح کے ہر گز خلاف نہیں کیونکہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نہ کسی رنگ کے نبی کے آنے کا دروازہ تمام مسلمانوں کے نزدیک کھلا ہے۔ وو بانی سلسلہ احمدیہ کا ختم نبوت پر ایمان اب ہم بتاتے ہیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے ختم نبوت کے متعلق کسی شدت سے اظہار کیا ہے اور اگر اپنے متعلق نبی کا لفظ بولا ہے تو اس میں کتنی احتیاط برتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:۔ میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اِس خانہ خدا مسجد میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اُس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں “۔ 185 پھر فرماتے ہیں :- ہم اِس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ وَلكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ “ - 186 اسی طرح فرماتے ہیں :- عقیدہ کے رُو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے “۔ 187