انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 311

انوار العلوم جلد 23 311 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کو نبی وقت خویش ست اے مرید زاں کہ زونورِ نبیؐ آید پدید 177 جب تو اپنا ہاتھ اپنے پیر کے ہاتھ میں دیتا ہے اس لئے کہ وہ دین اسلام کو خوب جاننے والا اور سمجھنے والا ہے اور اس لئے کہ اے مرید ! وہ اپنے وقت کا نبی ہے تا نبی کریم صلی اللہ اس سے واضح ہے کہ مولانا رومی کے نزدیک بھی اِس اُمت میں سے کمال درجہ علیہ و سلم کا نور اس کے ذریعہ سے ظاہر ہو۔ پر پہنچنے والا انسان نبی کہلاتا ہے۔ (ج) پھر مولانا رومی نے اپنی مثنوی میں لفظ خاتم کے معنی بھی بیان کئے ہیں۔ فرماتے ہیں۔ معنى نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ این شناس ، این است رہ رورا مہم تاز را ہے خاتم پیغمبراں بو که بر خیزد زلب ختم گراں ختم ہائے کانبیاء بگذاشتند آن بدین احمدی بر داشتند از کف إِنَّا فَتَحْنَا بر کشور قفلمائے ناگشوده مانده بود او شفیع است ایں جہاں و آں جہاں ایس جہاں در دین و آں جہاں در جناں پیشه اش اندر ظهور و در کمون اهْدِ قَوْمِ إِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ باز گشته از دم اوهر دو باب در دو عالم دعوت او مستجاب بہر ایں خاتم شد است او که بجود مثل اونے بود و نے خواهند بود چونکه در صنعت برد استاد دست نی تو گوئی ختم صنعت بر تو هست در کشادے ختم با تو خاتمی در جهان روح بخشان حاتمی هست اشارات محمد المراد کل کشاد اندر کشاد اندر کشاد 178 یعنی نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ کے معنی سمجھنے کی کوشش کرو۔ کیونکہ یہ راہ رو کے لئے ایک مشکل ہے تاکہ لب ہلانے سے خاتم النبیین کے رستے سے ایک بھاری ختم اُٹھ جائے۔ ایسے بہت سے ختم جو پہلے نبی باقی چھوڑ گئے تھے وہ دین محمدی میں اُٹھائے گئے۔ بہت سے تالے بند پڑے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنَّا فَتَحْنَا کے ہاتھ