انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 298

انوار العلوم جلد 23 298 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ قَالَ الرَّاغِبُ مِمَّنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْفَرِقِ الْأَرْبَعِ فِي الْمَنْزِلَةِ وَ الثَّوَابِ النَّبِيُّ بِالنَّبِيِّ وَ الصِّدِّيقُ بِالصِّدِّيقِ وَالشَّهِيدُ بِالشَّهِيدِ وَ الصَّالِحُ بِالصَّالِحِ - 142 یعنی امام راغب کے نزدیک اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحون میں شامل کئے جائیں گے۔ یعنی اِس اُمت کا نبی، نبی کے ساتھ۔ صدیق، صدیق کے ساتھ ۔ شہید ، شہید کے ساتھ۔ صالح، صالح کے ساتھ۔ اسی طرح مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے که يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقْضُونَ عَلَيْكُمُ ايْتِي فَمَنِ اتَّقَى وَ أَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ - 143 اے بنی آدم ! اگر تمہارے پاس میرے رس میرے رسول آئیں جو میری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائیں تو جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہوئے اُن کی باتوں پر کان دھریں گے اور اصلاح کے طریق کو اختیار کریں گے اُن کو آئندہ کسی قسم کا خوف نہ ہو گا اور نہ گزشتہ غلطیوں پر انہیں کسی قسم کا غم ہو گا۔ اس آیت میں بھی صاف بتایا گیا ہے کہ اُمت محمدیہ میں رسول آتے رہیں گے۔ اسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے و إِذَا الرُّسُلُ أُقتَتْ - 144- اور جب رسول ایک وقت مقررہ پر لائے جائیں گے یعنی آخری زمانہ میں اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو بروزی رنگ میں دوبارہ ظاہر کرے گا۔ شیعہ لوگ اسی سے استدلال کرتے ہیں کہ امام مہدی کے زمانہ میں تمام رسول لائے جائیں گے اور وہ اُن کی اتباع کریں گے۔ چنانچہ تفسیر قمی میں لکھا ہے ” مَا بَعَثَ الله نَبِيًّا مِن لَّدُنْ آدَمَ إِلَّا وَيَرْجِعُ إِلَى الدُّنْيَا فَيَنْصُرُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ “۔ 145 اللہ تعالیٰ نے - آدم سے لے کر آخر تک جتنے نبی بھیجے ہیں وہ ضرور دنیا میں واپس آئیں گے اور امیر المؤمنین مہدی کی مدد کریں گے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شیعوں کے نزدیک رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سارے رسول آئیں گے اور پھر بھی آپ کی ختم نبوت نہیں ٹوٹے گی۔ یہ تو قرآن کریم کی آیتوں میں سے چند آیات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ