انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 293

انوار العلوم جلد 23 293 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اس کے علاوہ جیسا کہ ہم اُو پر لکھ چکے ہیں کسی مرد کے باپ ہونے یا نہ ہونے کے ساتھ نبوت کا کوئی تعلق نہیں۔ پس ہمیں قرآن کریم پر غور کرنا چاہئے کہ کیا کسی اور جگہ کوئی ایسی بات بیان ہوئی ہے جس سے اگر آپ بالغ مردوں کے باپ ثابت نہ ہوں تو آپ کا نبی ہونا مشتبہ ہو جائے۔ کیونکہ لکن کا لفظ عربی زبان میں اور اس کے ہم معنی لفظ دُنیا کی ہر زبان میں کسی شبہ کے دُور کرنے کے لئے آتا ہے۔ اِس اُلجھن کو دُور کرنے کے لئے ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میں صاف لکھا ہوا نظر آتا ہے کہ اِنَّا اَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ - إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ - 129 ہم نے تجھ کو کوثر عطا فرمایا ہے۔ پس تو اللہ تعالیٰ کی عبادتیں کر اور قربانیاں کر ۔ یقیناً تیر ادشمن ہی نرینہ اولاد سے محروم ہے ، تو نہیں۔ یہ آیت جو مکہ میں نازل ہوئی تھی اِس میں اُن مشرکین مکہ کارڈ کیا گیا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند کی وفات ہو جانے پر طعنہ دیا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ اس کی تو کوئی نرینہ اولاد نہیں۔ آج نہیں تو کل اس کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ 130 اس سورۃ کے نزول کے بعد مسلمانوں کا یہ خیال ہو گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد ہو گی اور زندہ رہے گی لیکن ہوا یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد نرینہ تو ان کے خیال کے مطابق ہوئی نہیں اور جن دُشمنوں کے متعلق هُوَ الابتر کہا گیا تھا اُن کی اولاد نرینہ زندہ رہی۔ چنانچہ ابو جہل کی اولاد بھی زندہ رہی، عاصی کی اولاد بھی زندہ رہی، ولید کی اولاد بھی زندہ رہی (گو آگے چل کر اُن کی اولاد مسلمان ہو گئی اور رض اُس میں سے بعض لوگ اکابر صحابہ میں بھی شامل ہوئے) جب حضرت زید کا واقعہ پیش آیا اور لوگوں کے دلوں میں یہ شبہات پیدا ہوئے کہ زید کی مطلقہ سے جو آپ کا متبنی تھا، آپ نے شادی کر لی ہے اور یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے کیونکہ بہو سے شادی جائز نہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم جو سمجھتے ہو کہ زید (رضی اللہ عنہ) محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بیٹے ہیں یہ غلط ہے۔ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) تو کسی بالغ جوان مرد کے باپ ہیں ہی نہیں۔ اور ”ما كان ” کے الفاظ عربی زبان میں صرف یہی معنی نہیں دیتے کہ اس وقت باپ نہیں بلکہ یہ معنی بھی دیتے ہیں کہ آئندہ بھی وو