انوارالعلوم (جلد 23) — Page 261
انوار العلوم جلد 23 261 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جن چیزوں پر ان علماء نے شورش کی اور جن پر شورش کرنا اپنا حق قرار دیا ہے وہ ابتدائے اسلام سے مسلمانوں میں موجود رہی ہیں اور ابتدائے اسلام رض سے مسلمانوں کے علماء اور اولیاء اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ان کی تصدیق کرتے چلے آئے ہیں بلکہ اُن میں سے بعض اسلامی آئیڈیالوجی کا حصہ ہیں اور وہ ایسی باتیں نہیں ہیں کہ اگر وہ غلط بھی سمجھی جائیں تو ان پر شورش اور فساد کرنے کا کسی کو حق ہو۔ جماعت احمد یہ کے خلاف اعتراضات کا خلاصہ بانی سلسلہ احمدیہ اور جماعت احمد یہ کے متعلق جو باتیں شورش کا موجب قرار دی گئی ہیں وہ خلاصہ مندرجہ ذیل ہیں: اول۔ احمدیوں نے اسلام میں امتیوں پر نزول وحی اور نزولِ جبرئیل تسلیم کیا ہے حالانکہ نہ غیر نبی پر وحی نازل ہو سکتی ہے نہ بعد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جبرئیل نازل ہو سکتا ہے۔ ایسے عقیدہ والا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتا ہے۔ دوم ۔ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی ہتک کی ہے۔ سوم ۔ انہوں نے (مرزا صاحب کے) مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تسلیم کیا ہے اور حضرت مسیح ناصری کی وفات کا اعلان کر کے مسلمانوں کی دل شکنی کی ہے۔ چہارم ۔ انہوں نے ایک نئی اُمت بنائی ہے اور اپنے نہ ماننے والوں کو کافر اور خارج از اسلام کیا ہے۔ پنجم ۔ انہوں نے اپنے مخالفوں کے پیچھے نمازیں پڑھنے سے روکا ہے، اُن کی نماز جنازہ پڑھنے سے روکا ہے اور اُن کو لڑکیاں دینے سے روکا ہے۔ ششم۔ انہوں نے ایک غیر مسلم حکومت کی اطاعت کرنے کی تعلیم دی ہے اور اُن کی تائید میں جہاد کو منسوخ قرار دیا ہے۔ ہفتم ۔ انہوں نے مسلمان حکومتوں سے اور مسلمان تحریکوں سے کوئی ہمدردی نہیں کی۔ ہشتم ۔ انہوں نے مسلمانوں کو عموماً اور مسلمان علماء کو خصوصاً سخت گالیاں دیں۔