انوارالعلوم (جلد 23) — Page 256
انوار العلوم جلد 23 256 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ آسمانی طاقت آئے گی جو یہ بتائے گی کہ یہ اصلاح کا مدعی سچا ہے یا جھوٹا ہے۔ کیا یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ آدم سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء کو تو ان کے مخالف تکلیف دینے پر قادر ہو سکے اور اُن کو طرح طرح کے دکھوں میں مبتلا کیا گیا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کو بھی کہنا پڑا کہ يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ کہنا پڑا کہ سب سے زیادہ مشکلات اور مصائب خدا تعالیٰ کے انبیاء پر آیا کرتے ہیں اور پھر اُن سے نیچے اُتر کر جتنا جتنا کوئی شخص خدا تعالیٰ کو پیارا ہوتا ہے اُتنی ہی اُس پر مشکلات آتی ہیں۔ 69 3 لیکن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو مصلح اور مجدد آئیں گے آسمان سے فرشتے اُن کی مدد کے لئے اتر کر سب مسلمانوں کو بتا دیں گے کہ یہ شخص سچا ہے تم اس کی مخالفت نہ کرو۔ جو بات سارے رسولوں کو حاصل نہیں ہوئی حتی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حاصل نہیں ہوئی وہ آپ کے ایک خادم اور تابع کو حاصل ہو جائے گی۔ یہ بات نہ صرف عقلاً غلط ہے بلکہ نقلاً بھی غلط ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ مَاتَ بِغَيْرِ إِمَامٍ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَةً 70 یعنی وہ شخص جس نے اپنے زمانہ کے امام کو قبول نہ کیا اور اُسی حالت میں مر گیا وہ جاہلیت کی موت مرا۔ یعنی اماموں کے آنے کے بعد کچھ لوگ انہیں مانیں گے اور کچھ نہیں مانیں گے۔ اگر لوگوں کو زبر دستی ایمان لے آنا تھا اور ہدایت سب پر کھل جانی تھی تو پھر اس حدیث کے معنے ہی کیا رہ جاتے ہیں۔ اور اگر مخالفت ہونی تھی تو پھر لازماً ایک طرف اکثریت کا ہونا ضروری تھا اور ایک طرف مصلح اور اس کی چھوٹی سی جماعت کا ہونا۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اُن کی قبولیت کو دنیا میں پھیلا دے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اکثریت ہمیشہ حق پر ہوتی ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اقلیت کو دبانے کا اکثریت کو حق حاصل ہے ، اُس کو قید کرنے اور قتل کرنے کا بھی حق ہے ، اُس کو جبراً مذہب بدلوانے کا بھی حق ہے ، اُس کو اُس کے ضمیر کے خلاف مجبور کر کے اپنے اندر شامل کر لینے کا بھی حق ہے اُن کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ امت محمدیہ میں جتنے مصلح اور جتنے مجدد آئیں گے اُن سب کی گردنیں اور اُن سب کی