انوارالعلوم (جلد 23) — Page 254
انوار العلوم جلد 23 254 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ میں ڈالے گئے۔ حضرت امام احمد بن حنبل بھی قید کئے گئے اور اُن کے پاؤں میں بھاری بھاری بیڑیاں ڈالی گئیں۔ انہیں ذلیل کرنے کے لئے لوگ اُن کو تھپڑ مارتے اور اُن کے منہ پر تھوکتے تھے۔ حضرت امام بخاری وطن سے نکالے گئے۔ 63 حضرت بایزید بسطامی سات دفعہ اپنے شہر سے نکالے گئے۔ حضرت ذوالنون مصری " مشکیں باندھ کر بغداد بھیجے گئے اور علماء کی ایک جماعت اُن کے گھر کی گواہی دینے کے لئے اُن کے ساتھ گئی۔ 64 حضرت سید عبد القادر جیلانی پر اُس وقت کے علماء و فقہاء نے کفر کا فتویٰ لگایا۔ 65 حضرت شیخ احمد صاحب سر ہندی نے مجددیت کا دعویٰ کیا اور اُن کے ساتھ یہ سلوک ہوا کہ کافر ٹھہرائے گئے اور قید میں ڈالے گئے۔ 66 7J حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے مجددیت کا دعویٰ کیا اور اُن کے زمانے میں بھی اُن کے ساتھ بہت کچھ سختیاں کی گئیں اور انہیں بدعتی اور گمراہ کہا گیا۔ پھر حضرت سید احمد بریلوی نے مجددیت کا دعویٰ کیا اور خود مسلمانوں نے سکھوں کے ساتھ مل کر اُن کو قتل کرادیا۔ 67 حقیقت یہ ہے کہ اصلاح بغیر تجدید کے نہیں ہو سکتی اور تجدید پر اُس وقت کے علماء میں انقباض پیدا ہونا طبعی امر ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ 18 اے افسوس انسانوں پر کہ کبھی کوئی رسول اُن کی طرف نہیں آیا جس کے ساتھ اُنہوں نے ہنسی اور تمسخر کا سلوک نہ کیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلے سارے طریقوں کو بند کر دیا۔ اب تمام روحانی طریقے آپ ہی سے جاری ہو سکتے تھے اور ہونے والے تھے۔ اسی طرح پہلے زمانوں میں جو مختلف نبیوں کے زمانہ میں خرابیاں ہوئیں وہ بھی مجموعی طور پر آپ کی اُمت میں پیدا ہونی تھیں کیونکہ اب خدا اور وسواس دونوں کی جولانگاہ صرف ایک ہی اُمت ہو گئی تھی۔ اس قاعدہ کلیہ کے ماتحت جو ہم نے اُوپر لکھا ہے اور جس کی