انوارالعلوم (جلد 23) — Page 248
انوار العلوم جلد 23 248 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مگر ایسی اعلیٰ اور اکمل تعلیم کے آنے کے ہر گز یہ معنے نہ تھے کہ اُس کے نزول کے بعد جو خیر و شر کے قبول کرنے کا مادہ انسان میں رکھا گیا تھا وہ باطل کر دیا جائے۔ کیونکہ قرآن کریم سے واضح ہے کہ انسان کو دوسری مخلوقات پر ترجیح دینے کی اور کلام الہی کا حامل بنانے کی صرف اور صرف یہ وجہ تھی کہ انسان اپنے نفس پر جبر کر کے اپنی مرضی اور اپنے ارادہ سے خدا تک پہنچنے کی کوشش کر سکتا تھا اور اپنی مرضی اور اپنے ارادہ سے اس کو چھوڑ بھی سکتا تھا۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انسان میں خیر وشر کی مقدرت نہیں رہی تھی اور وہ ا اور وہ ایک مقررہ رستہ پر چلنے پر مجبور تھا تو پھر اُسی دن سے انسان اپنی انسانیت بھی کھو بیٹھا تھا اور اب وہ نہ کسی انعام کا مستحق تھا نہ کسی سزا کا مستوجب۔ لیکن ایسا نہیں۔ قرآن کریم تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی انسان کو سزا اور جزا کا مستحق قرار دیتا ہے اور جب تک انسان خیر وشر پر عمل کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور جب تک اُس کا ارادہ آزاد ہے اُس وقت تک جہاں اُس کے نیکی میں بڑھنے کا امکان موجود ہے وہاں اُس کے شرارت میں ترقی کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں اور اگر اُس کے اندر تغیر و تبدیلی کی طاقت موجود ہے، اگر وہ بدعت نکال سکتا ہے، اگر وہ تحریف معانی کر سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے آدمیوں کے آنے کا بھی رستہ کھلا رہے گا جو ان باتوں سے اُسے روکیں اور صحیح رستہ کی طرف لائیں۔ اگر ایسا ہونا نہیں تھا تو قرآن کریم یہ نہ فرماتا کہ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا - 47 یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے پھر گھر کیا پھر ایمان لائے پھر گھر کیا اور پھر گھر میں اور بھی بڑھ گئے۔ یقینا اللہ تعالیٰ اُن کے گناہوں کو معاف نہیں کرے گا اور وہ انہیں سیدھے راستے کی طرف نہیں لے جائے گا۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد بھی گھر کا دروازہ کھلا ہے۔ مسلمانوں کے بگڑنے کے متعلق پیشگوئیاں اسی طرح رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں