انوارالعلوم (جلد 23) — Page 217
انوار العلوم جلد 23 217 تعلق بالله اعتراض کیا جائے۔ اسی طرح جب میں حج کے لئے گیا تو جس جہاز میں میں نے سفر کیا اُسی میں تین بیرسٹر بھی سفر کر رہے تھے۔ ایک ہندو تھا اور دو مسلمان مگر وہ دونوں دہر یہ تھے۔ خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان نہیں رکھتے تھے چنانچہ میرے ساتھ اُن کی لمبی بحث رہی۔ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر بار بار مذاق اُڑاتے اور بعض دفعہ ایک تنکا نکال کر سامنے رکھ دیتے کہ اگر تمہارے خدا میں طاقت ہے تو وہ یہ تنکا ہلا کر دکھائے۔ ہندو بیرسٹر بھی اُن اعتراضات میں اُن کا شریک ہوا کرتا تھا۔ ایک دن اس بحث کے دوران میں جب کہ ہندو بیرسٹر بات کر رہا تھا اُس نے مثال میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی گستاخی سے ذکر کر دیا۔ بس اُس کا یہ ذکر کرنا تھا کہ وہ دونوں بیرسٹر جو خدا کی ہستی پر رات دن مذاق اُڑاتے رہتے تھے یکدم غصہ کے ساتھ اُس سے کہنے لگے کہ دیکھو میاں! اب اس کے بعد تم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں لینا اور نہ ہماری اور تمہاری دوستی بالکل ٹوٹ جائے گی۔ اُس نے کہا جب تم خدا کو ہی نہیں مانتے تو رسول کے ماننے کا سوال کیسا؟ وہ کہنے لگے کچھ ہو خدا کو جو مرضی ہے کہہ لو مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہم کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے۔ اب اس کی وجہ کیا ہے ؟ وجہ یہی ہے کہ ماں باپ نے بچپن سے تحفظ ختم نبوت" کی تلقین کی ہوئی ہوتی ہے اور چونکہ بچپن سے وہ سنتے چلے آتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں سے بڑے ہیں اس لئے وہ یہ بحث تو کر لیں گے کہ خدا ہے یا نہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف وہ کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ تو بار بار سننے سے بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حَبَّبُوا اللَّهَ إِلَى عِبَادِهِ يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ 104 یعنی لوگوں کے اندر تم ایسی باتیں کیا کرو جن سے خدا کی محبت پید ا ہو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ خدا بھی تم سے محبت کرنے لگے گا۔ اگر تم اپنے بچوں کو اور بڑوں کو ، دوستوں کو اور رشتہ داروں کو محبت الہی کی ضرورت اور اُس کے حصول کی اہمیت بتاؤ اور محبت پیدا کرنے والے افعال کا ذکر بار بار اپنی مجالس میں محبت اور پیار سے کرتے رہو تو تمہاری محبت