انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 210

انوار العلوم جلد 23 210 تعلق بالله ایک دوسرے کی بہت ہی تھوڑی ضرورتیں پوری کرتے ہیں اور پھر جو ضرورتیں پوری کرتے ہیں اُن کے تمام سامان خداتعالیٰ کے پیدا کر دہ ہوتے ہیں۔ پس قضائے حاجات کے لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ محبت کا مستحق ہے کیونکہ وہی سب سے زیادہ اپنے بندوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے۔ پانچواں ذریعہ محبت کا رفاقت و مصاحبت ہے۔ اس کی مثال دوستوں کی محبت اور میاں بیوی کی محبت ہے۔ بیویاں نہ سب کی حسین ہو سکتی ہیں نہ ہمیشہ حسین رہ سکتی ہیں۔ خوبصورت سے خوبصورت بیوی بھی ہو تو بعض دفعہ بیماریوں کی وجہ سے وہ نہایت بد صورت ہو جاتی ہے مگر یہ نہیں ہوتا کہ بیوی بدصورت ہو جائے تو خاوند اُسے چھوڑ دے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ گو ابتدا میں اکثر میاں بیوی ایک دوسرے سے اقتضائے حاجات اور حسن کی وجہ سے محبت کرتے ہیں یعنی وہ ایک دوسرے کو اچھے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام آتے ہیں اور ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں اس لئے وہ آپس میں محبت رکھتے ہیں لیکن بعد میں حسن اور شہوت ، رفاقت اور مصاحبت کی محبت سے بدل جاتے ہیں اور حسن بھول جاتا ہے گویا چونکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں اور ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اس لئے اُن کی محبت ایک نیا چولہ بدلتی ہے جو بڑھاپے تک قائم رہتی ہے۔ اُس وقت وہ عورت جس پر وہ کسی زمانہ میں اُس کے حسن کی وجہ سے جان چھڑک رہا تھا اپنے سارے حسن کو کھو بیٹھتی ہے مگر مرداس سے پھر بھی محبت کر رہا ہوتا ہے۔ اگر اُس عورت کی کوئی تصویر کھینچ کر دوسرے کے پاس لے جائے اور کہے بتاؤ کیا تم اس عورت سے محبت کر سکتے ہو ؟ تو وہ دیکھتے ہی کہے گا کہ کیا تم مجھے احمق سمجھتے ہو کیا یہ اس قابل ہے کہ اس کے ساتھ محبت کی جائے۔ اس کی بھویں لٹکی ہوئی ہیں، ہوئی ہیں، چہرہ سوکھا ہوا ہے، دانت کوئی ہے نہیں، کمر کبڑی ہو چکی ہے اور تم کہتے ہو کہ میں اس کے ساتھ محبت کروں لیکن اُس کا خاوند اب بھی اُس پر جان دیتا ہے کیونکہ اُس کی حسن اور قضائے حاجت والی محبت رفاقت اور مصاحبت کی محبت سے بدل چکی ہوتی ہے۔ اس رفاقت اور مصاحبت کو لو تو یہ بھی خدا تعالیٰ میں سب سے زیادہ پائی