انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 203

انوار العلوم جلد 23 203 تعلق بالله اُس نے ہماری بات نہ مانی اور فلاں جگہ شادی کر لی۔ اب کوئی اُن سے پوچھے کہ یہ بھی کوئی عاق کرنے والی بات تھی۔ عمر اُس نے بسر کرنی تھی یا تم نے؟ مگر وہ برداشت نہیں کر سکتے اور انہیں عاق کر دیتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ حال ہے کہ رات دن دنیا کی چھاتی پر انسان گناہ کر رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی بات کو رڈ کر رہا ہے مگر وہ ہے کہ اول تو عذاب نہیں دیتا اور پھر باوجود جاننے کے کہ کل یہی شخص تو بہ توڑ دے گا اُس کی تو بہ کو قبول کر لیتا ہے اور فرماتا ہے اگر کل اِس نے تو بہ توڑی تو دیکھا جائے گا آج تو یہ تو بہ کر رہا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى 29 اگر اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو جو ظلم اور گناہ کرتے ہیں پکڑنا چاہے تو انسان کیا حیوان بھی اس دنیا کے پر دہ پر نہ رہیں اور انسان کا نام و نشان تک مٹا دیا جائے مگر وہ ٹلاتا جاتا ہے اور کہتا ہے معاف کر دو۔ کیا دنیا میں کوئی ماں باپ ہیں سے ہر شخص جو اپنے بچوں کو اتنا معاف کرتے ہوں۔ اپنے نفس پر غور کر کے دیکھ لو ہم میں سے ہر خدا کی جس قدر نافرمانیاں کرتا ہے اور جس قدر ہزاروں ہزار قصور اُس سے سرزد ہوتے ہیں کیا اس قدر نا فرمانیاں وہ اپنے ماں باپ کی کر سکتے ہیں ؟ وہ تو مار مار کر دھجیاں اُڑا دیں۔ (ب) دوسری وجہ ماں باپ کی محبت کی میں نے وحدت وجود بتائی ہے خدا تعالیٰ کو انسان سے یہ تعلق تو نہیں لیکن وحدت مرکزیت کا تعلق ہے کیونکہ انسان اپنی ساری طاقتیں اُس سے لیتا ہے۔ ماں باپ چھوٹے قد کے ہوں تو بچہ بعض دفعہ لمبے قد کا ہوتا ہے۔ ماں باپ کی نظر کمزور ہو تو بچے کی نظر تیز ہوتی ہے۔ ماں باپ کند ذہن ہوں تو بچہ بعض دفعہ بڑا ذہین ہوتا ہے۔ یا ماں باپ بہادر ہوں تو بچہ بزدل ہوتا ہے۔ غرض ول ہزاروں ہزار چیزیں ایسی ہیں کہ باوجود وحدت وجود کے بچے ماں باپ سے نہیں لیتے لیکن خدا تعالیٰ کو انسان سے چونکہ وحدت مرکزیت کا تعلق ہے اور انسان کلی طور پر اپنی طاقتیں اُسی سے لیتا ہے اس لئے کوئی چیز ایسی نہیں جو انسان کو خدا سے حاصل نہ ہو گویا خدا تعالیٰ انجن ہے اور وہ گن اور یہ تعلق بھی بڑا گہرا ہوتا ہے۔ (ج) تیسری وجہ ماں باپ کی محبت کی اپنائیت ہے کہ یہ شے میری ہے۔ یہ