انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 193

انوار العلوم جلد 23 193 تعلق بالله ہے۔ اسی لئے فرماتا ہے إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ 20 اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (5) جو انسان اپنے دل میں یہ یقین پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہے کہ دعا کے بغیر میرے کام نہیں ہو سکتے۔ اُس کے دل میں بھی اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اس خیال کو اپنے دل میں مرکوز کر لے گا وہ لاز ما دعاؤں کی طرف زیادہ توجہ کرے گا۔ کہے گا فلاں کا کام دعا سے ہوا ہے آؤ میں بھی اُس سے دعا کروں اور اس طرح خدا تعالیٰ کا احسان اُس کے زیادہ قریب آجائے گا۔ یوں تو خدا تعالیٰ نے ہی سورج اور چاند اور ستارے اور ہوا اور دوسری ہزاروں ہزار چیزیں پیدا کی ہیں اور انسان جانتا ہے کہ یہ سب خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں لیکن جب یہ بات نظر کے سامنے آئے کہ میں نے فلاں چیز مانگی اور خدا نے دے دی۔ میں نے فلاں چیز مانگی اور خدا نے دے دی تو جو اثر یہ چیزیں پیدا کرتی ہیں وہ سورج اور چاند اور ستارے پیدا نہیں کرتے۔ پس دعا کی طرف توجہ کرنا بھی محبت الہی پیدا کرتا ہے۔ بے شک شروع میں تکلف والا حصہ آئے گا لیکن جب یہ بار بار دعائیں مانگے گا تو لازماً اس کی دعائیں قبول بھی ہوں گی اور بعض دفعہ معجزانہ رنگ میں قبول ہوں گی اور اس کی وجہ سے احسان جس سے محبت پیدا ہوتی ہے ننگا ہو کر اس کے سامنے آ جائے گا اور اس کے دل میں بھی محبت الہی پیدا ہو جائے گی۔ اس کی طرف بھی اوپر کی آیت اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ کے دوسرے معنوں نے اشارہ کیا ہے۔ تَوَّابِينَ کے دو معنی ہیں۔ ایک توبہ کرنے والوں کے اور دوسرے تو اب اُس شخص کو کہتے ہیں جو بار بار اُس کی درگاہ میں جاتا ہے۔ پس جو شخص بار بار اُس کی درگاہ میں جاتا ہے اُس کے دل میں بھی خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر یہ بات بھی فطرت انسانی میں داخل ہے کہ جب انسان مانگتا ہے تو عجز کرتا ہے اور جب عجز کرتا ہے تو اُس کے دل میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح بھی تو اب خدا تعالیٰ کی محبت کا جاذب بن جاتا ہے۔