انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 189

انوار العلوم جلد 23 189 تعلق بالله اللہ تعالیٰ نے اُس کے سارے منصوبوں میں اُس کے ہاتھ روک دیئے اور تمہیں اُس کے حملوں سے محفوظ کر دیا۔ یہ فکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرتا ہے یعنی خالی زبان سے رحمن یا رحیم نہ کہا جائے بلکہ یہ سوچا جائے کہ تم بیماری سے مرنے لگے تھے، سارے حالات تمہارے خلاف جمع تھے مگر پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں بچالیا اور تمہیں صحت عطا کر دی۔ فرض کرو کوئی شخص جنگل میں جا رہا ہے اور وہ کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو گیا ہے جس میں آپریشن ضروری ہے تو ایسی حالت میں اگر اچانک گھوڑے پر سوار کوئی ڈاکٹر اُس کے پاس آجاتا ہے اور وہ اُس کا علاج کرتا ہے جس سے وہ اچھا ہو جاتا ہے تو ہر شخص سمجھے گا کہ یہ ڈاکٹر نہیں آیا بلکہ خدا اپنے بندہ کے پاس چل کر آیا ہے۔ ایسے ہی نشانات ہوتے ہیں جو انسان کو بھینچ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لے جاتے ہیں اور اُسے فرش سے اُٹھا کر عرش تک پہنچا دیتے ہیں اور انہی نشانات پر غور انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کر دیتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیت میں اسی طرف توجہ دلائی ہے کہ تم غور کرو اور سوچو کہ آیا تمہارے ساتھ ، تمہارے دوستوں کے ساتھ یا تمہارے بزرگوں اور عزیزوں کے ساتھ ایسے واقعات گزرے ہیں یا نہیں جن میں اُس کی قدرت کا ہاتھ دکھائی دیتا تھا۔ جب تم ایسے واقعات پر غور کرو گے تو تمہارے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جائے گی۔ یہ پہلے مقام سے اونچا مقام ہے۔ ذکر میں تکلف پایا جاتا ہے لیکن فکر میں تکلف نہیں ہو تا بلکہ ایک حقیقت سامنے ہوتی ہے۔ (3) تیسرے مخلوقِ الہی کی خیر خواہی اور اُس سے محبت کرنے سے بھی اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ وہ طریق ہے جس میں انسان خدا تعالیٰ کو ایک رنگ میں مجبور کرتا ہے کہ میرے دل میں اپنی محبت ڈال۔ جیسے تم خدمت اور محبت سے دوسرے کے دل میں محبت پیدا کر دیتے ہو۔ تم ریل میں سفر کرتے ہو کمرہ میں سخت بھیڑ ہوتی ہے تمہارے لئے بیٹھنے کو کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ ایک شخص گلا پھاڑ پھاڑ کر کہہ رہا ہوتا ہے کہ کمبخت یہ ریل ہے یاڈر بہ ۔ جو آتا ہے اسی ڈبہ میں آجاتا ہے۔ اُس وقت اگر تم ایک کیلا نکال کر اُس شخص کے بچہ کو دے دو تو اسی وقت اُس کا غصہ جاتا رہے گا اور وہ کہے گا