انوارالعلوم (جلد 23) — Page 185
تعلق بالله 185 انوار العلوم جلد 23 ------------------------------- علاوہ ازیں یہ قطعی طور پر ناممکن ہے کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کے بندوں پر تو ظلم کرے اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرے پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ محبت جذبہ ہے نرمی کا اور ظلم جذبہ ہے سختی کا۔ محبت کہتی ہے اپنی چیز قربان کر اور ظلم کہتا ہے دوسرے کی چیز قربان کر پیس یہ دو مخالف جذبات ہیں اس اِس لئے لئے جو جو شخص ظالم ظالم ہے ہے نہ نہ وہ وہ خدا خدا تعالیٰ سے محبت کر سکتا ہے اور نہ خدا تعالیٰ اُس سے محبت کرتا ہے۔ ہے۔ یہ دس عدد اخلاق اور بُرائیاں جس شخص میں ہوں فرداً فردا یا مجتمع طور پر وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کے ناقابل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُس سے محبت نہیں کر سکتا۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس میں یہ عیب نہ ہوں وہ اللہ تعالیٰ سے ضرور محبت کرتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس میں یہ عیب نہ ہوں اُس میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی قابلیت ہوتی ہے۔ پس ان باتوں کے یہ معنی نہیں کہ جن لوگوں میں یہ باتیں نہ ہوں وہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں۔ بلکہ مراد صرف یہ ہے کہ جن لوگوں میں یہ باتیں ہوں وہ خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کر سکتے اور نہ خدا تعالیٰ اُن سے محبت کرتا ہے۔ لیکن اگر اُن میں یہ باتیں نہ ہوں تو اُن کے لئے امکان ہے کہ و ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے محبت کر سکیں۔ یہ لکیں۔ یہ معنی نہیں کہ وہ ضرور اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔ مثلاً جو شخص ظالم ہے وہ اللہ تعالیٰ سے محبت نہیں کر سکتا۔ مگر جو ظالم نہیں ضروری نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہو۔ ممکن ہے وہ سخت دل ہو یا پاگل ہو اور اُس کے اندر محبت پیدا ہی نہ ہو سکی ہو۔ پس نتیجہ صرف یہ نکلتا ہے کہ ظلم کے کہ ظلم کے ہوتے ہوئے محبت نہیں ہو سکتی۔ یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ظلم نہ ہو تو محبت ضرور ہو گی۔ ایک شخص جو مسرف نہیں اُس میں قابلیت ہے محبت کرنے کی مگر ضروری نہیں کہ وہ محبت کرے۔ اسی طرح وہ شخص جو خوان اور اشیم نہیں اُس میں قابلیت ہے کہ اگر وہ چاہے تو اللہ تعالیٰ سے محبت پیدا کر لے مگر ضروری نہیں کہ وہ محبت کرے۔ جب تک وہ خوان اور اشیم تھا اس کے لئے محبت کرنا نا ممکن تھا جب وہ خوان اور اثیم نہ رہا تو محبت کرنا اس کے لئے ممکن ہو گیا۔ گویا ان صفات میں منفی کی طاقت ہے ان کے عدم میں مثبت طاقت نہیں۔