انوارالعلوم (جلد 23) — Page 171
انوار العلوم جلد 23 171 تعلق بالله جو شخص کبھی محبت کرتا ہے اور کبھی نہیں کرتا اُس کی محبت کبھی قبول نہیں ہوتی یایوں کہو کہ وہ محبت ہی نہیں ہوتی لیکن توبہ واستغفار قبول ہو جاتا ہے حالانکہ توبہ و استغفار بھی انسان کبھی کرتا ہے اور کبھی نہیں کرتا۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ محبت جذبات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور توبہ و استغفار دماغ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ محبت ہمیشہ یکساں چلتی چلی جائے گی چاہے انسان خوشی میں ہو یا رنج میں۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ محبت کی لہر کبھی اونچی چلی جائے اور کبھی نیچے آ جائے لیکن یہ کبھی نہیں ہو گا کہ وہ کبھی غائب ہی ہو جائے۔ اس کے مقابلہ میں توبہ و استغفار میں یہ ہو گا کہ کبھی ہم توبہ و استغفار کر رہے ہوں گے اور کبھی نہیں کر رہے ہوں گے۔ پس الہی محبت وہی ہو سکتی ہے جو سب سے زیادہ ہو اور اُس میں دوام پایا جائے۔ قرآن کریم کی رُو سے محبت کی دو اقسام ثابت ہوتی ہیں۔ اوّل محبت کسی جو و وو انسان کسب سے حاصل کرتا ہے یعنی پہلے وہ رغبت کرتا ہے پھر اُنس کرتا ہے پھر وُڈ کرتا ہے اور پھر محبت کرتا ہے۔ یہ محبت بندے کی طرف سے آتی ہے۔ گویا کسی چیز وہ ہے جو بندہ کرتا ہے اور وہی وہ ہے جو خدا کی طرف سے آتی ہے چاہے وہ محبت سے ہی شروع ہو جائے۔ بہر حال کسی محبت میں کوشش بندے کو کرنی پڑتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس محبت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ غَفُورٌ رَّحِیم 9 یعنی اگر تمہارے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت پائی جاتی ہے تو تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ مقابل میں بھی محبت کا پیدا ہونا ایک ضروری امر ہے کیونکہ سچی محبت دوسرے کے دل میں بھی محبت پیدا کر دیتی ہے۔ کہتے ہیں "دل را بہ دل رہیت"۔ جب کوئی شخص سچے دل سے کسی سے محبت کرتا ہے تو دوسرے کے دل میں بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ بہر حال خدا تعالیٰ سے کوئی ایسی محبت نہیں ہو سکتی جس میں دونوں طرف جوڑ اور اتصال نہ ہو۔ جیسے ماں اور بچہ اور خاوند اور بیوی میں محبت ہوتی ہے کہ ایک طرف ماں کے دل میں محبت ہوتی ہے اور دوسری طرف بچہ کے دل میں۔ ایک طرف خاوند اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے تو دوسری طرف بیوی اپنے خاوند پر جان دیتی ہے۔