انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 151

انوار العلوم جلد 23 151 تعلق بالله آگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی محبت کا مورد بنائے گا۔ یہ معنی بھی اس میں آگئے ہیں کہ بنی نوع انسان کے دلوں میں اُن کی محبت پیدا کرے گا اور یہ معنی بھی اس میں آگئے ہیں کہ بنی نوع انسان کی محبت اُن کے دلوں میں پیدا کر دے گا یعنی شفقت علی الناس کے لحاظ سے بھی اُنہیں ایک نمونہ بنا دے گا۔ گویا وہ دنیا میں بھی مقبول ہوں گے اور آخرت میں بھی مقبول ہوں گے۔ وہ محبوب ہوں گے بنی نوع انسان کی نگاہ میں اور محبوب ہوں گے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں۔ یہ چار مطالب ایک چھوٹے سے فقرہ میں اللہ تعالیٰ نے ادا کر دیئے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے اِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُود 18 میرا رب رحیم اور وڈو د ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے خدا راغب نہیں ہوتا کیونکہ رغبت میں ناقص محبت ہوتی ہے۔ خدا انیس نہیں ہوتا کیونکہ انیس بھی محبت کے لحاظ سے ناقص ہوتا ہے۔ خداودود ہوتا ہے۔ وَدُود کے معنی ہیں بہت محبت کرنے والا۔ گویا خدا یہ بتاتا ہے کہ میں خالی واد (وَادِدُ) نہیں بلکہ وَدُود ہوں۔ میں بہت محبت کرنے والا نہیں بلکہ بہت بہت محبت کرنے والا ہوں۔ پھر سورۃ بروج میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ 49 خدا بڑا غفور اور ودود ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے راغب اور انس کا لفظ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کے لئے استعمال نہیں ہوا کیونکہ رغبت اور اُنس کمزور یا معمولی تعلق پر دلالت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا تعلق کمزور یا معمولی نہیں ہوا کرتا۔ بندے کا تعلق تو کمزور ہو سکتا ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ کا تعلق کمزور ہو جیسے ماں کا تعلق اولاد سے ہمیشہ شدید ہوتا ہے لیکن اولاد اکثر بے پرواہ ہوتی ہے اور کچھ ہی ہوتے ہیں جو اپنی ماں کا حق ادا کرتے ہیں۔ بہر حال خدا تعالیٰ کے متعلق رغبت اور انس کے لفظ استعمال نہیں ہوتے۔ صرف وُڈ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو ان دو سے زیادہ طاقتور ہے اور وڈ کا بھی صیغہ فاعل استعمال نہیں ہوا۔ صیغہ فعول استعمال ہوا ہے جو شدت اور وسعت پر دلالت کرتا ہے۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ جب یہ لفظ ناقص ہیں تو انسان کی نسبت کیوں استعمال