انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 148

انوار العلوم جلد 23 148 تعلق بالله اس پر دلالت کرتا ہے کہ میری محبت نے اُس کا منہ بھی میری طرف پھیر دیا ہے اور چونکہ اُس کا منہ میری طرف ہو گیا ہے اِس لئے میرے دل کو تسلی ہو گئی ہے اور گھبراہٹ جاتی رہی ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جا رہے تھے کہ اُنہوں نے ایک آگ دیکھی اور اپنے اہل سے کہا کہ اپنی انسْتُ نَارًا 44 ایک آگ کو دیکھ کر میرے دل نے تسلی پائی ہے۔ چونکہ انس کے اصلی معنی قرب اور تسلی کے ہیں۔ ایناس دیکھنے اور سننے کے معنوں میں بھی آتا ہے کیونکہ دیکھی اور سنی وہی چیز جاتی ہے جو قریب ہو جاتی ہے۔ پس انست ناراً کے معنی یہ ہیں کہ مجھے آگ کی تلاش تھی اب ایک قسم کی آگ مجھے نظر آئی ہے اور میرے دل کو تسلی ہو گئی ہے کہ میری ضرورت پوری ہو گئی۔ تیسر الفظ ؤڈ ہے۔ وُڈ اُس محبت کو کہتے ہیں جس کے ساتھ تمنّی بھی ہو یعنی صرف محبت ہی نہ ہو بلکہ اُس کے ساتھ تمنّی اور خواہش بھی پائی جاتی ہو کہ وہ چیز مجھے مل جائے۔ گویا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو کہ لو لگ جائے۔ یہ لفظ وڈ کی شکل میں بھی استعمال ہوتا ہے ، وڈ کی شکل میں بھی اور وڈ کی شکل میں بھی۔ اور تینوں شکلوں میں محبت کے معنوں میں ہی آتا ہے۔ اس کے معنی محبت کے بھی ہیں اور بہت محبت کے بھی ہیں۔ اِس کے معنوں کی حقیقت اس طرح واضح ہوتی ہے کہ وہ عربی زبان میں وقد 45 یعنی میخ کو بھی کہتے ہیں۔ اس وجہ سے کہ اُس کے ذریعہ سے جانور کو زمین کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے۔ گویاؤ ڈایسی محبت کا نام ہے جو محب اور محبوب دونوں کو اس طرح جو ڑ دیتی ہے جیسے کیلا گاڑ کر جانور کو باندھ دیتے ہیں اور وہ زمین کے ساتھ متعلق ہو جاتا ہے۔ رغبت کے معنی یہ تھے کہ میرے دل میں شوق پیدا ہو گیا ہے اگلے کا پتہ نہیں کہ اُس کے دل میں بھی کوئی شوق پیدا ہوا ہے یا نہیں۔ اُنس کے یہ معنی تھے کہ میرے دل میں بھی شوق پیدا ہو گیا ہے اور اگلے کے دل پر بھی میری محبت کا اتنا اثر ہو چکا ہے کہ اُس نے اپنا منہ میری طرف کر لیا ہے اور وڈ کے یہ معنی ہیں کہ صرف اُس نے منہ ہی نہیں کیا بلکہ محبت نے ہماری آپس میں گرہ باندھ دی ہے۔ پس ؤ ذوہ محبت ہے جو گہرا اور مضبوط تعلق پیدا