انوارالعلوم (جلد 23) — Page 146
انوار العلوم جلد 23 146 تعلق بالله سے پہلے اپنے آپ پر اعتبار کرنا چاہئے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اپنے نفس میں کمزوریاں محسوس کریں اور سمجھیں کہ ابھی انہیں اور زیادہ ترقی کی ضرورت ہے مگر اس کا علاج یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کو بدلیں۔ اُس کی اصلاح کریں اور کمزوریوں پر غالب آنے کی کوشش کریں۔ اِسی طرح دوسروں سے بھی کہیں کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیں مزید ترقیات عطا فرمائے اور ہماری کمزوریوں پر پردہ ڈالے لیکن جب واقع میں اُن کی سمجھ میں آگیا کہ خدا تعالیٰ ہے اور اُس کے احکام پر عمل کرنا اُن کا فرض ہے تو اُن کے مؤمن ہونے میں کیا شبہ رہا۔ اسی طرح سورۃ قلم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مؤمن کہتے ہیں إِنَّا إِلى رَبَّنَا رغبُونَ 27 ہم تو اللہ تعـ و اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رغبت رکھتے ہیں۔ مفردات راغب میں جو قرآن کریم کی ایک پرانی لغت کی کتاب ہے علامہ اصفہانی لکھتے ہیں کہ اَصْلُ الرَّغْبَةِ السَّعَةُ فِي الشَّيْءِ 28 یعنی رغبت کے اصل معنی کسی چیز میں وُسعت پیدا ہو جانے کے ہیں يُقَالُ رَغْبَ الشَّيْءُ اتَّسَعَ ۔ 29 عرب کہتے ہیں فلاں چیز رغیب ہو گئی یعنی فلاں چیز بہت وسیع ہو گئی 30 ہو گئی 30 اور کہتے ہیں حَوْضُ رَغِيْب 31 فلاں حوض بڑا وسیع ہے اور کہتے ہیں فَرَسَ رَغِيْبُ الْعَدَدِ فلاں گھوڑا بڑے لمبے قدم مار کر چلتا ہے۔ گویا عربی میں رغبت کے اصل معنی وسعت کے ہیں۔ پھر کہتے ہیں اَلرَّغْبَةُ السَّعَةُ فِي الْإِرَادَةِ 32 ارادہ کی وسعت پر بھی رغبت کا لفظ بولا جاتا ہے اور رَغِبَ فِيْهِ وَإِلَيْهِ کے معنی ہیں يَقْتَضِي الْحِرْصَ عَلَيْهِ 33 وہ شدت حرص کے ساتھ اس چیز کو طلب کرتا ہے۔ گویا کسی چیز کی طلب کی وسعت اور اس کے حصول کے لئے خواہش کی شدت کو رغبت کہا جاتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ کی رغبت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے ملنے کی زبر دست اور وسیع خواہش انسان کے دل میں پیدا ہو جائے۔ دوسر الفظ انس ہے۔ اَنِسَ يَأْنَسُ کے معنی ہوتے ہیں آلِفہ 34 اس چیز سے الفت ہو گئی وَ سَكَنَ قَلْبه به 25 اور اُس چیز کے ملنے سے دل کو تسکین ہو گئی گویا انس کے معنی ہیں وہ چیز جس کی جستجو تھی مل جائے اور اُس کے ملنے سے دل کی گھبراہٹ دور ہو جائے۔