انوارالعلوم (جلد 22) — Page 615
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۱۵ سیر روحانی (۶) دوست اور دشمن تیری تعریف میں رطب اللسان ہوگا اور ہر مقام پر تیرے بلند اخلاق اور اعلیٰ درجہ کے کردار کا چرچا ہوگا ۔ اس انعام کا اعلان بھی ایسی حالت میں کیا گیا جب دنیا اپنی نابینائی کی وجہ سے اس خدائی گورنر جنرل کا حُسن دیکھنے سے عاری تھی اور وہ اپنی مخالفت کے جوش میں اسے محمد کہنے کی بجائے مذمم کہہ کر پکارا کرتی تھی مگر ابھی ایسی مخالفت پر کچھ زیادہ عرصہ گزرنے نہیں پایا تھا کہ اُس کا روحانی حسن ظاہر ہونا شروع ہوا اور لوگوں کو محسوس ہوا کہ انہوں نے سونے کو پیتل اور ہیرے کو کوئلہ قرار دیکر ہمالیہ سے بھی بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے ۔ ھوں سے اُتار کر اس کے اخلاق فاضلہ کو دیکھا تو ہر وصف میں یکتا اور بے نظیر نبی انہوں نے تعصب کی پٹی اپنی آنکھوں انہیں بے مثال پایا اور اس کے زندگی بخش کلام کو سُنا تو اُسے تمام کلاموں سے افضل پایا، اس کے علم کو دیکھا تو دنیا کے بڑے بڑے عالموں کو اس کے سامنے جاہل پایا، اس کی معرفت کو دیکھا تو بڑے بڑے عارفین کو اُس کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کرتے دیکھا ، اس کی محبت اور تعلق یا اللہ کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کا ویسا عاشق اور سچا عبادت گزارا نہیں ساری دنیا تو اللہتعالیٰ یا اور میں نظر نہ آیا ، انہوں نے اس کے دلائل و بینات کا جائزہ لیا تو انکارڈ کرنے کی دُنیا کے کسی مذہب میں طاقت نہ پائی ، اس کی دعاؤں کی قبولیت کو دیکھا تو انہیں بے نظیر پایا ، اس کے فیوض و برکات اور اس کی تعلیمات کا مشاہدہ کیا تو دنیا میں اُن کا کوئی ثانی نہ دیکھا ، اس کی پیشگوئیوں پر انہوں نے نظر دوڑائی تو انہیں آپ کی صداقت اور راستبازی کا ایک بڑا نشان دیکھا ۔ غرض جس پہلو سے بھی انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اُسے مجسمہ حُسن واحسان پایا اور وہ آپ کے ایسے والہ و شیدا ہوئے کہ تمام دنیوی علائق کو توڑ کر وہ آپ سے ایسے وابستہ ہو گئے اور اس عہدِ وفا کو انہوں نے مرتے دم تک اس خوبی سے نباہا کہ پہلی امتیں اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں ۔ زبانوں پر حد کے ترانے یہی وہ چیز تھی جس کی خدا تعالیٰ کی طرف سے ان وہ الفاظ میں خبر دی گئی تھی کہ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ