انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 613

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۱۳ سیر روحانی (۶) ایک ایسا مینار بن گئے کہ آج بھی اُن کی روشنی نیند کے ماتوں کو بیدار کرنے اور انہیں چاق و چو بند بنانے کے کام آ رہی ہے ۔ غرض اس روحانی گورنر جنرل کو خدائے واحد کی طرف سے جس انعام کا وعدہ دیا گیا تھا وہ وعدہ بڑی شان کے ساتھ پورا ہوا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے گو شر عطا کیا اور ہر رنگ میں اتنی برکات اور انعامات کے ساتھ نوازا کہ انسان کے لئے اُن کا شمار کرنا بھی مشکل ہے۔ ایک کثیر الخیر روحانی فرزند پھر گوٹر کے ایک معنے الرَّجُلُ كَثِيرُ الْعَطَاءِ کے پیدا ہونے کی پیشگوئی وَالْخَيْرِ ۱۲٦ کے بھی ہیں یعنی ایسا انسان جو بڑا سخی ہو اور دنیا میں کثرت سے نیکی پھیلانے والا ہو۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں یہ بیان فرمایا تھا کہ اے محمد رسول الله ! ہم اب بھی تجھے ہر قسم کی نعمتوں کی کثرت دینگے اور آئندہ زمانہ میں بھی تجھے ایک بہت بڑا روحانی فرزند عطا کریں گے جو کثیر الخیر ہوگا اور کثرت سے قرآن کریم کے علوم اور اس کے معارف دنیا میں پھیلائے گا خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مفہوم میں یہ پیشگوئی فرمائی کہ يُفيضُ الْمَالَ - ۱۷ یعنی آنے والا مسیح کثرت کے ساتھ لوگوں میں روحانی دولت تقسیم کر دیگا مگر اس کے ساتھ ہی قرآن کریم نے إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَن میں اس طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے کہ آنے والا مسیح اُمتِ محمدیہ کا ایک فرد ہوگا کیونکہ انا اعطيتك میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ مسیح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے گا اور اس کا وجود ثابت کر دیگا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتر نہیں ، پس وہ آپ کا ہی روحانی بیٹا ہوگا ، باہر کا کوئی آدمی نہیں ہوگا ۔ تمام مخالف اقوام ابتر ہو کر رہ گئیں اس جگہ پہلے معنوں کے لحاظ سے ہوکر دشمنوں سے مراد ابو جہل ، عتبہ اور شیبہ وغیرہ ہیں ، مگر دوسرے معنوں کے لحاظ سے شانئک سے وہ تمام قو میں مراد ہیں جو آج اسلام پر حملہ کر رہی ہیں چنانچہ دیکھ لو جب اسلام ضعیف ہو گیا ، مسلمانوں کی طاقتیں کمزور ہو گئیں اور عیسائی مصنفوں نے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ اب اسلام ترقی نہیں کر سکتا اور خود