انوارالعلوم (جلد 22) — Page 603
انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۰۳ سیر روحانی (۶) پ کو درجہ ملا تو خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پھر آپ کو درجہ ملا تو کا جس میں کوئی نبی بھی آپ کا مقام خاتم النبیین اور آپ کی عالمگیر بعثت شریک نہیں ۔ پھر سب انبیاء ایک ایک قوم کی طرف مبعوث ہوتے رہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِينَ بنا کر بھیجا گیا اور آپ کی برکات کا دائرہ اتنا وسیع کر دیا گیا کہ دنیا کی کوئی قوم آپ کی غلامی کا کی سے باہر نہ رہی ۔ کرشن اور رام چندر کی تعلیم صرف ہندوستان کے لئے تھی ، زرتشت کی تعلیم صرف ایران کے لئے تھی ، حضرت موسیٰ سے لے کر حضرت مسیح تک تمام انبیاء کی تعلیم بنی اسرائیل کے لئے تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے ہر أَسْوَد و أَحْمَر کی طرف مبعوث فرمایا اور آپ نے یہ اعلان کیا کہ بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَا فَةَ الْأَحْمَرَ وَالْأَسْوَدَ - وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ ۔ یعنی خدا تعالیٰ نے مجھے تمام عالم انسانی کی طرف مبعوث فرمایا اور ہر أسود وأَحْمَر میرا مخاطب ہے۔ اب خواہ ایشیا کے رہنے والے ہوں یا افریقہ کے، یورپ کے رہنے والے ہوں یا جزائر کے، پہاڑوں میں رہنے والے ہوں یا میدانوں میں، گاؤں میں رہنے والے ہوں یا شہروں میں ، سب پر آپ کی اطاعت فرض ہے اور کوئی شخص بھی آپ کی غلامی کا جوا اُٹھائے بغیر روحانی عمارت کی اینٹ نہیں بن سکتا ۔ سے ہر قسم کے خدام کا خدام کا عطا کیا جانا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لحاظ سے بھی خیر کثیر عطا کیا کہ اس نے ہر قسم کے انسان آپ کو عطا کئے ۔ اگر جرنیلوں کی ضرورت تھی تو اس نے آپ کو ایسے جرنیل عطا کئے جن کے تدبر کا آج یورپ تک معترف ہے ، اگر مبلغوں کی ضرورت تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے مبلغ عطا فرمائے جو قرآن ہاتھ میں لے کر ساری دنیا میں نکل گئے اور انہوں نے ہزاروں لوگوں کو اسلام میں داخل کیا ، اگر جاں نثار اور فدا کار غلاموں کی ضرورت تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے مخلص جاں نثار عطا فرمائے جنہوں نے بھیڑ بکریوں کی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے سر کٹا دیئے، اگر کسی جگہ عورتوں کی فدائیت کی ضرورت پیش آئی تو عورتیں