انوارالعلوم (جلد 22) — Page 596
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۹۶ سیر روحانی (۶) کی اتنی محبت پائی جاتی تھی کہ وہ ان کی معمولی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔ حضرت عمرؓ کا ایک بدوی عورت حضرت عمرؓ کو دیکھ لو اُن کے رُعب اور دبدبہ سے ایک طرف دنیا کے بڑے کے بچوں کے فاقہ پر تلملا اٹھنا بڑے بادشاہ کا نپتے تھے، قیصر وکسری کی حکومتیں تک لرزہ بر اندام رہتی تھیں مگر دوسری طرف اندھیری رات میں ایک بدوی براندام رہتی تھیں کہ دوسری طرف اندھیری را۔ عورت کے بچوں کو بھو کا دیکھ کر عمر جیسا عظیم المرتبت انسان تلملا اٹھا اور وہ اپنی پیٹھ پر آٹے کی بوری لاد کر اور گھی کا ڈبہ اپنے ہاتھ میں اُٹھا کر اُن کے پاس پہنچا اور اُس وقت تک واپس نہیں لو ٹا جب تک کہ اُس نے اپنے ہاتھ سے کھانا پکا کر اُن بچوں کو نہ کھلا لیا اور وہ اطمینان سے سو نہ گئے ۔ ۹۸ عبادت الہی میں رسول کریم عبادت الہی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغراق صرف أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ اور رُحَمَاءُ صلی اللہ علیہ وسلم کا استغراق بينهم ہی نہیں بلکہ تھا اس کے بھی مصداق ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ خوبی بھی اُن میں نمایاں طور پر پائی جاتی تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث سے ثابت ہے کہ آپ رات کو اللہ تعالیٰ کے حضور اتنی اتنی دیر عبادت میں کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے ۔ 29 ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ يَا رَسُولَ الله! آپ اس قدر عبادت کیوں کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مغفرت کا وعدہ فرمایا ہوا ہے ۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ ! کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ ۱۰۰ میدان جنگ میں بھی اسی طرح صحابہ کی یہ حالت تھی کہ میدانِ جنگ میں بھی وہ نمازوں کی ادائیگی کا التزام رکھتے تھے نمازوں کی بالالتزام ادائیگی اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور میں بھی وہ نمازوں کی ادائی کا التزام رکھتے تھے سر بسجود رہتے اور دعاؤں اور ذکر الہی میں اپنا وقت گزارتے ۔ غرض دنیوی درباروں میں بادشاہوں کی طرف سے جو خطابات دیئے جاتے ہیں وہ