انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 591

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۹۱ بھی پرواہ نہ کی کہ اس کے نتیجہ میں کیا مشکلات آسکتی ہیں ۔ سیر روحانی (۶) ایک صحابی کی درخواست پر رسول کریم مگر جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے مقابلہ میں ایک صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے اپنی چادر دے دینا ایسے پہاڑ کی حیثیت رکھتے تھے ایسے پہا جس سے ٹکڑا کر انسان کا سر پاش پاش ہو جاتا ہے مگر پہاڑ اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا وہاں اپنے ماننے والوں کے متعلق آپ کے دل میں اس قدر محبت اور پیار کے جذبات پائے جاتے تھے کہ احادیث میں لکھا ہے ایک دفعہ ایک مخلص عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خوبصورت چادر پیش کی جو اس نے اپنے ہاتھ سے بھی تھی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ اسے اپنی ذات کے لئے استعمال فرمائیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چادر پہن کر باہر تشریف لائے تو ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے کہا یا رَسُولَ الله! یہ چادر مجھے دے دیجئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس چادر کی خود ضرورت تھی مگر آپ نے اُس کے سوال کو رڈ کرنا مناسب نہ سمجھا اور فوراً واپس آکر اُسے چادر بھجوا دی ۔ لوگوں نے اسے ملامت کی کہ تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چادر کیوں مانگ لی ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اس کی خود ضرورت تھی ۔ اُس نے کہا میں نے یہ چادر اپنے کفن کے لئے لی ہے چنانچہ راوی کہتا ہے کہ بعد میں وہی چادر اس کا کفن بنی ۔20 غرباء کی دلداری اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک غریب صحابی جو اتفاقی طور پر بدصورت بھی تھے سخت گرمی کے موسم میں اسباب اُٹھا رہے ہیں اور اُن کا تمام جسم پسینہ اور گرد و غبار سے آٹا ہوا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے ان کے پیچھے چلے گئے اور جس طرح بچے کھیل میں چوری چھپے دوسرے کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ وہ اندازہ سے بتائے کہ کس نے اُس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا ہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی سے اُس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔ اُس نے آپ کے ملائم ہاتھوں کو ٹٹول کر سمجھ لیا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ یہ