انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 586

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۸۶ سیر روحانی (۶) بغض سے صاف کر دے ۔ اے ہمارے رب ! تو بڑا مہربان اور بڑا رحم کر نیوالا ہے۔ تعلقات کی خرابی کی تین وجوہ دنیا میں تعلقات کی تمام تر خرابی حسد، رقابت اور آئندہ کے خطرات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے ۔حسد پہلوں سے ہوتا ہے رقا سے ہوتا ہے رقابت ہمعصروں سے ہوا ہوتی ہے اور خطرہ بعد میں آنے والوں سے ہوتا ہے لِلَّذِينَ آمَنُوا کہہ کر ایک سچا مؤمن ان تینوں نقائص سے اپنا دل صاف رکھنے کی خواہش کرتا ہے گویا اس کا دل ایسا پاکیزہ ہوتا ہے کہ اس میں نہ پہلوں کا حسد ہوتا ہے نہ ہمعصروں کی رقابت ہوتی ہے اور نہ بعد میں آنے والوں کے متعلق کوئی بدظنی ہوتی ہے ۔ ہر قسم کے بغض اور کینہ سے مبرا وجود اسی طرح اللہ تعالی اس دیوان خاص والے در بایوں کی نسبت فرماتا ہے کہ 66 إنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّتٍ وَعُيُونٍ ادْخُلُوهَا بِسَلْمٍ آمِنِينَ وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِّنْ غِلَّ اِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُّتَقْبِلِينَ ٨٦ یعنی متقی لوگ باغات اور چشموں والے مقامات میں ہونگے اور انہیں کہا جائیگا کہ تم سلامتی کے ساتھ ان میں داخل ہو جاؤ اور ان کے سینوں کو ہر قسم کے بغض اور کینہ اور حسد سے پاک کر دیا جائیگا اور وہ بھائی بھائی بن کر جنت میں رہیں گے ۔ الہی خطابات کو چھیننے کی غرض اس دربار میں خطابات تقسیم ہوتے ہیں تو کوئی شخص طاقت نہیں رکھتا یا ہم چپقلش اور رقابت شروع نہیں ہو جاتی اور پھر شروع نہیں اور ں خطابات ملتے ہیں تو وہ نہ صرف حقیقت کے وفات مطابق ہوتے ہیں بلکہ دنیا لاکھ کوشش کرے وہ اُن کو چھیننے کی طاقت نہیں رکھتی ۔ اس دربار سے اگر کسی کو نبی کا خطاب دیا گیا تو وہ نبی فوت ہو چکا اور ہزار ہا برس اُس کی وفا پر گزر گئے مگر نبی کا خطاب موجود ہے اور اگر اس سے کوئی منکر ہوتا ہے تو فوراً با غیوں میں شریک ہو جاتا ہے۔ حکومت بدل گئی ، گورنر کے بعد گورنر تبدیل ہوئے مگر مجال ہے کہ پرانے گورنر کی کوئی ہتک کر سکے اور اُس کے درجہ کو کم کر سکے !