انوارالعلوم (جلد 22) — Page 582
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۸۲ سیر روحانی (۶) عارضی ثابت ہوتے ہیں اور دوسری حکومت چھین لیتی ہے۔ کبھی انعام ملنے سے پہلے ہی وہ صاحب ختم ہو جاتے اور کبھی اُن سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق ہی نہیں ملتی ۔ کھانا ملتا ہے تو معدہ خراب ہو جاتا ہے، کپڑا ملتا ہے تو جسم پر خارش یا کوڑھ ہو جاتا ہے اور انسان نہ اس کھانے سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے نہ کپڑے سے۔ کبھی انعام لینے والے خود حکومت کے دشمن ہو جاتے ہیں جیسے بعض انگریز کے خوشامدی اور اس سے انعام واکرام لینے والے آج ہم سے اس لئے نا خوش ہیں کہ یہ انگریز کی اطاعت کرتے تھے اُس وقت ان کی تعریف سے ان کے لب خشک ہوتے تھے اور بڑی بڑی کوششوں اور التجاؤں کے بعد انعام لیتے تھے اور اب ہم پر جنھوں نے کبھی کچھ نہیں لیا آنکھیں نکالتے ہیں کہ تم نے اُن کے اچھے کاموں کی تعریف کیوں کی ۔ غرض دنیوی درباروں کا نہ خطاب حقیقت کے مطابق ہوتا ہے نہ انعام مستقل اور پائدار ہوتا ہے اور نہ انعام لینے والے حکومت کے سچے وفادار ہوتے ہیں ۔ صحابہ کرام کو رَضِيَ اللهُ عَنْهُم مگر میں نے دیکھا کہ اس در بار کا خطاب بالکل سچا اور انعام ہمیشہ کے لئے رہنے والا وَرَضُــواعــــــه کا خطاب ہے چنانچہ دیکھ لوصحابہ کواللہ تعالیٰ خطاب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ والشبقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهْجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۵۴ یعنی مہاجرین اور انصار میں سے وہ لوگ جو سابق بالایمان ہیں اور اسی طرح وہ لوگ جنھوں نے نیکی اور تقویٰ میں ان کے نمونہ کی اتباع کی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اُس سے راضی ہو گئے یہ وہ عظیم الشان خطاب ہے جو صحابہ کرام کو ملا اور عَلَى رُؤُوسِ الْأَشْهَادِ اس کا اعلان کیا گیا۔ دنیا میں ہزاروں انقلابات آئے ، حکومتیں بدلیں ، حوادث رونما ہوئے مگر اس الہی دربار سے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کا جو خطاب صحابہ کرام کو ملا تھا وہ بدل نہ سکا۔ آج بھی جب صحابہ کا کوئی ذکر کرتا ہے تو ایک مخلص کا دل محبت اور پیار کے جذبات سے لبریز ہو جاتا ہے اور وہ رضِي اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ رض