انوارالعلوم (جلد 22) — Page 573
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۷۳ سیر روحانی (۶) شاہ ایران کا محمد رسول اللہ صلی اللہ پھر کسری شاہ ایران جو آدھی دنیا کا مالک تھا اُس نے یہود کے اشتعال دلانے پر علیہ وسلم کی گرفتاری کا حکم دینا اپنے گورنر یمن کو لکھا کہ عرب کے اس بین کو لکھا کہ عرب کے اس مدعی نبوت کو گرفتار کر کے میرے پاس بھیجوا دیا جائے یہ شخص اپنے دعووں میں بہت بڑھتا کو کر میرے دیا یہ تھی اپنے میں بہت چلا جا رہا ہے ۔ گورنر یمن نے اس حکم کے ملتے ہی ایک فوجی افسر کو اس ڈیوٹی پر مقرر کیا اور وہ ایک سپاہی کو اپنے ساتھ لیکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے مدینہ منورہ میں پہنچا اور اُس نے آپ سے کہا کہ کسری نے گورنر یمن کو حکم بھجوایا ہے کہ آپ کو گرفتار کر کے اُس کی خدمت میں حاضر کیا جائے اور ہم اس غرض کے لئے یہاں آئے ہیں آپ ہمارے ساتھ چلیں ورنہ کسری کو زیادہ غصہ آیا تو وہ آپ کو بھی ہلاک کر دیگا اور آپ کی قوم اور ملک کو بھی برباد کر دے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شاہ ایران کو خدا تعالی کی طرف سے سزا کے برای من تورو کل میں تمہیں اس کا جواب دونگا ۔ رات کو آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بتایا گیا کہ کسری کی اس گستاخی کی سزا میں آج رات ہم نے اس کے بیٹے کو اس پر مسلط کر دیا ہے اور اُس نے اپنے باپ کو قتل کر دیا ہے ۔ جب صبح ہوئی اور گورنر یمن کے ایچی دوبارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا جاؤ اور اپنے گورنر سے جا کر کہہ دو کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو مار دیا ہے ۔ گورنر یمن کا استعجاب حبیب گورنر یمن کو یہ اطلاع پہنچی تو اس نے کہا اگر یہ شخص واقعہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو ایسا ہی ہوا ہو گا لیکن اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو پھر کسر ٹی اسے بھی تباہ کر دیگا اور اس کے ملک کو بھی برباد کر دے گا بہر حال اُس نے حیرت اور استعجاب کے ساتھ اس خبر کو سُنا اور اُس نے ایران سے آنے والی اطلاعات کا انتظار کرنا شروع کیا۔