انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 534

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۳۴ سیر روحانی (۶) معنی ہونگے کہ وہ کمبل یا لوئی اوڑھ کر بھی سو رہا ہے ۔ کئی لوگ لوئیاں لے کر تو یہاں بھی بیٹھے ہیں مگر وہ جاگ رہے ہیں ۔ مد قریب کہا جائیگا جب کوئی لوئی لے کر سو رہا ہو۔ لیکن آجکل کے مولوی کی یہ حالت ہے کہ ادھر تو ہمیں کفر کا فتوی دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور اُدھر قرآن میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی لفظ استعمال ہو تو کے متعلق کوئی لفظ استعمال ہو تو یہ ہمیشہ اس کے بُرے معنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لیتا ہے اور عیسی کی نسبت وہی لفظ آجائے تو خیر ۔ معلوم نہیں عیسی اس کا کیا لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ اس کے اچھے معنے کرتا ہے اور پھر بھی وہ مولوی کہلاتا ہے ۔ مد قبر کے معنی یہ درست ہے کہ مدثر کے ایک معنی کمبل اوڑھ کر سونے والے کے بھی ہیں مگر مدثر کے ایک اور معنی بھی ہیں جو اچھے ہیں اور اس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وہ نہیں سو جھتے اور وہ معنے ہیں : کپڑے پہن کر تیار ہو جانے والا اور گھوڑے کے پاس کھڑا ہونے والا کہ حکم ملتے ہی فوراً چھلانگ مار کر اس پر سوار ہو جائے ۔ ۱ یہ بھی لغت میں لکھے ہوئے ہیں ۔ چنانچہ دینار کے متعلق لکھا ہے کہ اس کے معنے ہیں الثَّوبُ الَّذِى فَوْقَ الشِّعَارِ وا یعنی دھا ر اس کپڑے کو کہتے ہیں جو گرتا وغیرہ کے اوپر پہنا جائے ۔ جب انسان نے باہر جانا ہوتا ہے تو وہ خالی گرتا نہیں پہنتا بلکہ کوٹ پہنتا ہے ۔ یا فوج والے لڑنے کے لئے جاتے ہیں تو وردی پہن لیتے ہیں ، پس اس کے معنے یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وردی پہنی ہوئی ہے۔ ان مفسرین کو یہ تو نظر آتا ہے کہ مدثر کے معنے کمبل اوڑھ کر سونے والے کے ہیں مگر یہ نظر نہیں آتا کہ اس کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ اے وردی پہن کر کھڑے ہونے والے انسان ! ۔ اسی طرح اس کے دوسرے معنے گھوڑے پر چھلانگ لگا کر چڑھنے والے کے ہیں ہے گویا وہ اس بات کے انتظار میں کھڑا ہے کہ حکم ملے تو گھوڑے پر چھلانگ لگا کر ۔ سوار ہو جاؤں اور کام کے لئے دوڑ پڑوں ۔ اب ان معنوں کو دیکھو اور کمبل اوڑھ کر سو رہنے والے معنوں کو دیکھو کیا ان دونوں میں کوئی بھی نسبت ہے؟ کیا وہ دربار معلوم ہوتا ہے اور دربار بھی وہ جو