انوارالعلوم (جلد 22) — Page 518
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۱۸ سیر روحانی (۶) ہی موزوں ہے ہم اس کے اہل نہیں اسی لئے قرآن کریم میں انسان کے متعلق ہی ظَلُومًا جَهُولًا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، فرشتوں نے کہا ہم ظَلُومًا جَهُولا نہیں بن سکتے یہ آدمی ہی کی ہمت ہے وہ بیشک ظَلُومًا جَهُولًا بنتا پھرے۔ پس سوال یہ نہیں تھا کہ وہ نئی تجلی کیا ہے جس کا آدم کے ساتھ تعلق ہے بلکہ سوال یہ تھا کہ آیا انسان ہی اس تجلی کا حامل ہو سکتا ہے؟ فرشتے نہیں ہو سکتے ؟ خدا تعالیٰ نے عملاً تجلی اخد العالي ظاہر کر کے دکھا دی اور فرشتوں نے مان لیا کہ ہم میں اس کی اہلیت نہیں لیکن آج ہزاروں سال کے بعد ایک انسان اُٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ فرشتے بیوقوف تھے اُن بیوقوفوں کو سوال کرنا آیا تھا جواب سمجھنا نہیں آیا حالانکہ فرشتوں کا چُپ ہو جانا بتاتا ہے کہ فرشتوں کا یہ سوال تھا ہی نہیں کہ آپ ہمیں سکھاتے تو ہم بھی سیکھ جاتے بلکہ فرشتوں کا سوال یہ تھا کہ وہ کونسی تجلتی ہے جس کا حامل انسان ہو سکتا تھا ہم نہیں ہو سکتے تھے ۔ خدا کے بتانے یا نہ بتانے کا ذکر نہیں تھا بلکہ اس تجلی کے قابل وجود کا ذکر تھا ۔ روحانی در بار خاص کی اب میں اس در بار کی بعض مخصوص کیفیات کا ذکر کرتا ہوں ۔ اول اس دربار میں بھی بادشاہ کے گرد کچھ درباری یعنی بعض مخصوص کیفیات ملائکہ نظر آتے ہیں۔ ۔ دوم وہ درباری گلی طور پر بادشاہ کے کمالِ علم کے قائل ہیں دُنیوی در بار خاص میں تو بسا اوقات کمانڈ ر سمجھتا ہے کہ بادشاہ اگر چھوٹی سے چھوٹی لڑائی کے لئے بھی جائے گا تو ہار جائیگا مگر اس دربار میں ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ بادشاہ جانتا ہے وہ میں نہیں جانتا۔ سوم وہ اس سے زیادتی علم کے لئے بھی سوال کرتے رہتے ہیں گویا وہ صرف یہی نہیں جانتے کہ یہ ہر بات جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے بلکہ ان کے دل میں تڑپ ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرتے جائیں اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق اپنے آپ کو مقام تکمیل تک پہنچائیں ۔ فرشتہ اپنی ملکیت کے لحاظ سے کامل ہونا چاہتا ل تک پہنچا ہیں۔ فرشتہ اپنی ملکیت کے لحاظ سے کامل ہونا چاہتا ہے اور انسان اپنی انسانیت کے لحاظ سے کامل ہونا چاہتا ہے مگر ترقی بہر حال موجود