انوارالعلوم (جلد 22) — Page 506
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۰۶ سیر روحانی (۶) اس اثر پر الْحَمْدُ لِلَّهِ کہتے ہیں جو ہم پر پڑتا ہے ۔ اسی طرح یہاں فرماتا ہے ۔ وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَ لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ ۔ شکر ہے کہ خدا کا جس کا نہ کوئی بیٹا ہے نہ بیوی نہیں تو ہمارے در بارِ خاص کا بھی وہی حال ہوتا جو دنیوی درباروں کا ہوتا ہے کہ قربانیاں ہم کرتے اور بادشاہ کہتا کہ بیٹے صاحب کو کہ اور بادشہ تخت دے دیا جائے یا بیوی صاحبہ کی خوشامد کرنی پڑتی جیسے کسی شاعر نے کہا ہے ۔ تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا ہے۔ بادشاہوں کے لئے اپنی جانیں دیر بایوں کو ہر وقت یہی مصیبت رہتی تھی کہ ادھر بیویوں کو خوش کرو اور قربان کر نیوالوں کا حسرت ناک انجام اُدھر شہزادوں کو خوش کرو گویا قربانیاں کرنے والے اور مرنے والے اور ، جہاد کرنے والے اور، اپنے مال اور جائدادیں لٹانے والے اور ، اور بادشاہت کرنے والے شہزادے اور بیگمات ۔ تو فرماتا ہے وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَ لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ جو بادشاہ ہوتے ہیں ان کی اولا دیں اور ان کی بیویاں سارا حق لے جاتی ہیں اور قربانیاں کرنے والے ہمیشہ وفادار غلام کہلاتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو کہہ دے میں اُس بادشاہ کا غلام ہوں کہ لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَ لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ جس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اُس کا کوئی بیٹا ہے ۔ اس لئے نہ تو اس کی محبت مجھ میں اور ان میں تقسیم ہے، نہ مجھے دو مالکوں کے خوش کرنے کی ضرورت ہے ایک ہی خدا ہے جس سے میرا واسطہ ہے اور اُس کی محبت کسی اور کے ساتھ بٹی ہوئی نہیں خالص میرے لئے ہے۔ ولم يكن له ولي من الذل پھر درباریوں میں سے بعض لوگ بڑی بڑی عزتیں پا جاتے ہیں اور وہ دربار میں خاص عزت پا جانے کی وجہ سے بادشاہ پر ایسے حاوی ہو جاتے ہیں کہ بادشاہ سمجھتا ہے کہ بغیر ان کی مدد کے میرا کام نہیں چل سکتا لیکن ہمارا با دشاہ اس قسم کا نہیں اس م