انوارالعلوم (جلد 22) — Page 472
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۷۲ چشمہ ہدایت کے گھر میں آٹا بھی نہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ اسے آٹا نہ ملے ، مگر آٹا مل جانے سے کیا اس کی دنیا میں کوئی پوزیشن قائم ہو سکتی ہے؟ اگر سیر بھر آٹے کا اس کے لئے انتظام بھی ہو جائے تب بھی وہ جن کے پاس کئی کئی کروڑ روپیہ ہے ان کے مقابلہ میں اُس کی کوئی حیثیت نہیں ہو سکتی ۔ پس ہم یہ نہیں کہتے کہ مسلمان حکومتوں کو آزادی حاصل نہ ہو۔ ہم چاہتے ہیں مسلمان ممالک آزاد ہوں ، ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان حکومتیں طاقتور ہوں لیکن جو سوال ہمارے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ اس آزادی کے بعد دنیا میں ہماری پوزیشن کیا بنتی ہے؟ مسلمان اس بات کا مدعی ہے کہ وہ ساٹھ کروڑ ہے ۔ عیسائیوں نے جو تازہ جغرافیہ لکھا ہے اِس میں اُنہوں نے مسلمانوں کی تعداد اڑتالیس کروڑ بیس لاکھ مان لی ہے لیکن دنیا کی آبادی دو ارب چالیس کروڑ ہے دو ارب چالیس کروڑ ہی میں اڑتالیس کروڑ میں لاکھ تمام آبادی کا چوتھا حصہ بنتے ہیں ۔ گویا اگر سارے مسلمان آزاد ہو جائیں ، اگر ہر اسلامی ملک میں اُتنی ہی دولت ہو جتنی امریکہ میں پائی جاتی ہے ، اُتنا ہی اسلحہ ہو جتنا امریکہ میں پایا جاتا ہے، اُتنی ہی تجارت ہو جتنی امریکہ میں پائی جاتی ہے پھر بھی روپیہ میں سے چونی انہیں حاصل ہو گی ۔ اب تم خود ہی بتاؤ کہ ۱۲ آنے بڑے ہوتے ہیں یا چونی بڑی ہوتی ہے؟ چونی بہر حال چھوٹی ہوتی ہے اور ۱۲ آنے بڑے ہوتے ہیں ۔ وہ ہندو جس کو ہمارے آدمی تحقیر کے طور پر کراڑ کر اڑ کہا کرتے تھے وہ بھی آزادی کے بعد بتیس کروڑ آبادی کا مالک بن چکا ہے ۔ پھر چین کو دیکھ لو اس کی آبادی اور رقبہ کو لے لو اس کی آبادی پچاس کروڑ ہے ۔ اگر مسلمان اڑتالیس کروڑ ہی ہوں تو خالی چین کے لوگوں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہے ۔ پس سوال یہ ہے کہ اگر ایسا بھی ہو جائے تو یہ کونسا مقصد ہے جو ہر مسلمان کے سامنے رہنا چاہئے؟ اله میں نے بتایا ہے کہ اگر کوئی آدمی مر رہا ہو تو ہماری خواہش ہو گی کہ خدا کرے وہ بیچ جائے لیکن کیا جو شخص مرنے سے بچ جائے وہ بادشاہ ہو جایا کرتا ہے؟ یا کوئی بڑا عالم ہو جایا کرتا ہے؟ مسلمانوں کی آزادی کے لئے جدو جہد کے معنے صرف اتنے ہیں کہ مسلم باڈی تا ہے؟ مسلمانوں کی آزادی کے لئے تنے اہتے پالیٹکس میں مرض پیدا ہو چکا ہے اور وہ اس مرض کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ہماری میں