انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 454

انوار العلوم جلد ۲۲ لدوله چشمہ ہدایت بات ہے کہ جب تک ہمارے ہوش قائم ہیں ، جب تک ہم پاگل نہیں ہو جاتے ہم اُنہیں بھی نہیں چھوڑ سکتے ۔ لالچ سے انسان چھوڑ سکتا ہے لیکن دل سے وہ کبھی الگ نہیں ہو سکتا ۔ یہی ایمان کے پرکھنے کا ذریعہ ہے۔ اور وہی قوم ایماندار ہو سکتی ہے جس میں یہ تینوں پائی جائیں۔ یوں تو ہر قوم کہتی ہے کہ ہم ایماندار ہیں عیسائی بھی کہتے ہیں کہ ہم اندار ہیں عیسائی بھی کہتے ہیں کہ ہم اور ایماندار ہیں اور ہندو بھی کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیں ، سکھ بھی کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیں ، زرتشی بھی کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیں ، مسلمانوں میں سے حنفی ، شافعی جنبلی سب کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیں مگر سوال یہ ہے کہ جو کچھ ان کے عقیدے ہیں اگر وہ نقل عقل جذبات صحیحہ کے مطابق ہیں تو پھر وہ غیر متزلزل ہیں کیونکہ ایمان کی تعریف میں شامل ہیں اور اگر ان کے عقیدے اور ان کے خیالات متزلزل ہو سکتے ہیں کسی جگہ عقل کے خلاف ہیں ، کسی جگہ نقل کے خلاف ہیں ، کسی جگہ جذبات صحیحہ کے خلاف ہیں تو سمجھ لو کہ چاہے وہ کتنا ہی یقین ظاہر کرتے ہوں قسمیں کھاتے ہوں ، روتے ہوں ، چلاتے ہوں ، جس دن بھی ان کے کان کھلے اور عقل اندر آئی ، جس دن بھی ان کے کان کھلے اور نقل اندر آئی، جذبات صحیحہ اندر آئے اُسی دن اُن کا ایمان متزلزل ہو جائے گا ۔ یہی وہ ایمان ہوتا ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ کیا ایک چلو پانی سے ایمان بہہ گیا چنانچہ دیکھو یہ ایک ایسا مسئلہ تھا کہ اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غیر لوگ بھی سمجھ گئے تھے ۔ وہ ایمان نہیں لائے تھے مگر سمجھ گئے تھے ۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو جو تبلیغی خط لکھے تو ایک خط ہرقل کے نام بھی تھا۔ جب اس کے پاس خط پہنچا تو اس نے کہا کہ عرب کا کوئی آدمی لاؤ جس سے میں پوچھوں کہ حقیقت کیا ہے؟ اتفاق کی بات ہے کہ ابوسفیان جو اُس وقت مکہ کے سردار تھے اور اسی طرح مکہ کے چند اور آدمی تجارت کے لئے وہاں گئے ہوئے تھے، سپاہی اُنہیں پکڑ کر لے کے ۔ آئے ۔ اُس نے ابوسفیان کے پیچھے اس کے ساتھیوں کو کھڑا کر دیا اور کہا کہ میں اس سے چند سوال کرونگا اگر یہ سچ بولے تو چپ رہنا اور اگر کسی بات میں اس نے جھوٹ بولا تو تم