انوارالعلوم (جلد 22) — Page 452
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۵۲ چشمہ ہدایت دوست سمجھا کہ کم سے کم دس آیتیں تو ضرور ہوں گی اس سے کم تو نہیں ہو سکتیں ۔ پھر کہنے لگے اچھا اقرار رہا مگر شرط یہ ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی میرا بھی دوست ہے اور آپ کا بھی ہے آپ جانتے ہیں اس کے دل میں بدظنی ہو گی وہ آپ کے اقرار کو یوں نہیں مانے گا ۔ لاہور میں جامع مسجد میں جا کر اعلان کرنا پڑے گا کہ میری غلطی ہے ۔ آپ نے فرمایا ضرور ۔ اُن دنوں حضرت خلیفہ اول جموں سے چھٹی لے کر لاہور آئے ہوئے تھے اور مولوی محمد حسین صاحب نے آپ سے بحث شروع کر دی تھی کہ میرے ساتھ وفات مسیح پر مباحثہ کر لو اور معیار کیا ہو گا حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے قرآن اور وہ کہتے تھے حدیث ۔ آخر بڑے جھگڑوں اور اشتہار بازیوں کے بعد اور پیغام رسانیوں کے بعد حضرت خلیفہ اول نے مان لیا کہ اچھا تم بخاری کو اَصَحُ الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللہ کہتے ہو جو کچھ قرآن اور بخاری میں لکھا ہو گا وہ میں مان لوں گا ۔ چینیاں والی مسجد میں مولوی محمد حسین صاحب بیٹھے ہوئے تھے اُن کے ارد گرد اُن کے معتقد تھے اور وہ بڑے زور شور سے کہہ رہے تھے تعلی کی اُن کو عادت تھی کہ دیکھونو ر الدین اتنا بڑا عالم بنا پھرتا ہے سارے ہندوستان میں مشہور ہے میں نے اُس کو یہ دلیل دی اور اُس نے وہ دلیل دی ۔ اُس نے یوں کہا اور میں نے اُسے یوں کہا۔ اور میں نے اُسے یوں پٹنی دی اور آخرا سے منوالیا کہ حدیث بھی پیش ہو سکے گی ۔ اتنے میں بدقسمتی سے مولوی نظام الدین صاحب وہاں پہنچ گئے اور کہنے لگے مولوی صاحب چھڈ و بھی تہانوں عادت ہے اینویں لمبے جھگڑے کرن دی ۔ میں مرزا صاحب کو منوا آیا ہوں آپ قرآن سے دس آیتیں لکھ دیں ، میں ابھی مرزا صاحب کو شاہی مسجد میں لاکر سب کے سامنے ان سے توبہ کراؤں گا ۔ اب عین موقع پر جو آ کر انہوں نے یہ کہا دوسرے موقع پر بات ہوتی تو شاید وہ برداشت بھی کر جاتے تعلی تو اُن کی ساری یہی تھی کہ نورالدین قرآن کہتا تھا اور میں نے حدیث منوالی ۔ اس موقع پر جو نظام الدین صاحب نے یہ بات کہی تو مولوی محمد حسین صاحب غصہ میں آگئے اور کہنے لگے میں مہینہ بھر توں حدیث ول لیا رہیا ، توں پھر قرآن ول لے گیا ہاں۔ میاں نظام الدین صاحب نیک آدمی تھے ، جب اُنہوں نے یہ بات سنی تو اُن پر سکتہ سا آگیا اور بہت ہی افسردہ شکل