انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 419

انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۴۱۹ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۵۱ء نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۵۱ء فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۵۱ء بر موقع افتتاح جلسہ سالانہ بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: میں بعض حالات کی وجہ سے افتتاح جلسہ سے پہلے دو نکاحوں کا اعلان کرنا چاہتا ہوں ۔ میں نے اس بات کو ظاہر نہیں ہونے دیا کیونکہ ایسے موقع پر دوسرے احباب اپنے کا غذات دے دیتے اور اتنا وقت لے لیتے ہیں کہ جس سے جلسہ کے پروگرام پر بھی اثر پڑ جاتا ہے ۔ یہ دو نکاح جن کا اعلان کرنا چاہتا ہوں ایک تو میرے لڑکے مرزا وسیم احمد کا ہے جو کہ شروع ایام ہجرت سے قادیان میں بیٹھا ہوا ہے ۔ یہ نکاح امۃ القدوس بیگم جو ہمارے ماموں مرحوم و مغفور میر محمد اسمعیل صاحب کی بیٹی ہیں اُن سے ایک ہزار روپیہ مہر پر قرار پایا ہے۔ لڑکی کی طرف سے اُس کے چچا زاد بھائی سید داؤ داحمد وکیل ہیں اور لڑ کے کی طرف سے قبولیت کا اختیار میرے نام آیا ہو ا ہے ۔ وو اس کے بعد حضور نے سید داؤ د احمد صاحب سے دریافت فرمایا کہ ): سید داؤ د احد تمہیں امتہ القدوس کے حقیقی ولیوں کی طرف سے اور امتہ القدوس بیگم کی طرف سے اُن کا نکاح ایک ہزار و روپیہ مہر پر مرزا وسیم احمد ولد مرزا محمود احمد سے منظور ہے؟“ اس پر سید داؤ د احمد صاحب نے اپنی منظوری کا اعلان کیا ۔ اس کے بعد حضور نے فرمایا :-) اب میں مرزا وسیم احمد کی طرف سے اعلان کرتا ہوں کہ اُن کو ایک ہزار روپیہ مہر پر