انوارالعلوم (جلد 22) — Page 392
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۹۲ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے ہی ہے تو جہی برتی گئی ہو گی اور کارکنوں نے اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا ہوگا اور جماعت کے افراد کو ان کے فرائض کی طرف توجہ نہیں دلائی ہوگی ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آہستہ آہستہ اپنے مقام سے گرتے چلے گئے اور آخر وہ دن آ گیا جب اکثریت اپنے فرائض سے غافل ہوگئی اور صرف اقلیت فرائض کو پہچاننے والی رہ گئی ۔ پس بہر حال یہاں آنے کے نتیجہ میں مجھے ایک برکت تو حاصل ہو گئی ۔ مجھے یہ معلوم ہو گیا کہ کا رکن اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا نہیں کر رہے اور اس کے نتیجہ میں جماعت کی توجہ اس اہم کام کی طرف کم ہو گئی ہے۔ دنیا میں ہر چیز خواہ وہ بیماری ہو یا تندرستی ، وہ دوسروں پر اثر ڈالتی ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مجلس میں اگر ایک شخص کھانستا ہے تو اس کے ساتھ دس افراد اور کھانسنے لگ جاتے ہیں حالانکہ وہ اس سے پہلے کھانس نہیں رہے تھے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص کی کھانسنے کی آواز کان میں پڑتے ہی ساتھ والے افراد کے اعصاب بھی اسی قسم کی حرکت کرنے لگتے ہیں جس قسم کی حرکات کے نتیجہ میں کھانسی پیدا ہوتی ہے۔ مجلس میں ایک شخص ا باسی لیتا ہے تو جھٹ دس پندرہ اور افراد بھی اُباسی لینے لگ جاتے ہیں کیونکہ وہ اُسے اباسی لیتے ہوئے وہی حالات اور کیفیات محسوس کرنے لگ جاتے ہیں جن حالات اور کیفیات کے نتیجہ میں اُباسی پیدا ہوتی ہے۔ ایک آدمی دوڑتا ہوا نظر آتا ہے تو دوسرے کئی لوگ بھی دوڑ نے لگ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کوئی حادثہ ہو گیا ہے یا کوئی تماشہ ہے جس کی طرف لوگ بھاگے جارہے ہیں ۔ اسی طرح دوسرے کاموں میں بھی خواہ وہ دینی ہوں ۔ یا دُنیوی لوگ ایک دوسرے کی نقل کرتے ہیں ۔ اسی طرح یہاں بھی ہوا ہے جب دس پندرہ افراد نے سستی کی اور کارکنوں نے اس طرف توجہ نہیں کی تو دوسری دفعہ پچاس، ساٹھ افراد نے سستی سے کام لیا اور جب ان پر بھی کارکنوں نے کوئی ایکشن نہ لیا تو تیسری دفعہ سو ، دو سو افراد نے سستی سے کام لیا اور جب پھر بھی کارکنوں نے اس طرف توجہ نہ کی تو چار پانچ سو افراد نے سُستی کی اور جب کا رکنوں کو اتنی کمی نظر آئی تو اُنہوں نے سمجھ لیا کہ رسہ ہاتھ سے نکل چکا ہے اب اس کی اصلاح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔