انوارالعلوم (جلد 22) — Page 15
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۵ عورتیں آئندہ نسلوں کو دیندار بنا سکتی ہیں یہ ہوا کہ تباہی آگئی ۔ عدل جاتا رہا، انصاف قائم نہ رہا اور چاروں طرف ظلم ہی ظلم ہونے لگا۔ آخر مسلمانوں کی اگلی نسل کیوں بگڑی ؟ کیا ان کے بگاڑنے کیلئے جہنم سے شیطان آئے تھے؟ وہ اس لئے بگڑے کہ عورتوں نے اپنی ذمہ داری نہ سمجھی اور انہوں نے اپنی اولاد کو ایسی تعلیم نہ دی جس کے ماتحت وہ اپنے والدین کے نقش قدم پر چلنے والے ہوتے ۔ ایک عجیب مثال ایک عجیب مثال مجھے ہمیشہ ایک واقعہ یاد رہتا ہے جس کا کا میرے دل پر نہایت گہرا اثر ہے اور جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح بعض جاہل عورتوں کو بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ اُن کی اولاد صحیح راستہ سے منحرف نہ ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک میراثن تھی جس کا اٹھارہ بیس سال کا جسکا ایک نو جوان لڑکا عیسائی ہو گیا ۔ وہ احمدی نہیں تھی لیکن اُس نے کسی سے سُنا کہ قادیان میں ایک مرزا صاحب ہیں جو عیسائیوں کا بڑا مقابلہ کرتے ہیں ۔ وہ لڑکا بڑا پکا عیسائی تھا مگر وہ اُسے ساتھ لے کر قادیان پہنچی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہو گئی ۔ اس کے لڑکے کو سل کا مرض تھا آپ نے اسے قادیان میں رکھا اور حضرت خلیفہ اوّل سے علاج کروایا اور میراثن روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے پاس آتی اور منتیں کرتی کہ آپ دعا کریں اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کو ہدایت دے دے۔ آپ اُسے بلاتے اور سمجھاتے مگر وہ اتنا پکا عیسائی تھا کہ ہر قسم کے دلائل کے باوجود اُس نے عیسائیت ترک کرنے کا نام نہ لیا ۔ آخر ایک دن وہ اپنی ماں کو سوتا دیکھ کر رات کے وقت سل کی حالت میں گیارہ بارہ بجے اُٹھ کر بھاگا تا کہ وہ بٹالہ میں عیسائیوں کے پاس چلا جائے ۔ آدھ گھنٹہ کے بعد اُس کی ماں کی آنکھ کھلی اور جب اُس نے دیکھا کہ اس کا لڑ کا بستر پر نہیں تو فوراً اُسے خیال آیا کہ وہ بھاگ گیا ہے ۔ چنانچہ وہ اُسی وقت دوڑی اور آدھی رات کے وقت جنگل میں سات آٹھ میل تک دوڑتی چلی گئی اور بٹالہ کے قریب پہنچ کر اُس نے لڑکے کو پکڑ لیا اور راتوں رات پھر اسے قادیان واپس لائی ۔ اس واقعہ کا کہ اب تک اُس کے لڑکے کی اصلاح نہیں ہوئی اُسے اتنا صدمہ ہوا کہ وہ دوسرے دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آئی اور رو رو کر التجا کی کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے خاوند