انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 368

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۶۸ ہر احمدی تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کے ہاتھ میں کچھ نقدی تھی ۔ اُنہوں نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا اور رونے لگ گئے ۔ اُن کی حالت ایسی تھی جس طرح کسی بکرے کو ذبح کیا جاتا ہے۔ میری عمر چھوٹی تھی اور میں حیران تھا کہ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ یہ رورہے ہیں ۔ آٹھ دس منٹ کے بعد اُ نہوں نے بولنا شروع کیا لیکن پھر بھی وہ متواتر نہیں بول سکتے تھے ۔ آدھا فقرہ کہتے اور رونے لگ جاتے ۔ پھر ایسا کرتے ۔ آٹھ دس منٹ میں جو فقرہ اُنہوں نے مکمل کیا وہ یہ تھا کہ میں ہمیشہ خیال کرتا تھا کہ کتنی دیر کے بعد خدا تعالیٰ نے اُمت کی التجاؤں کو سُنا ہے اور اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے۔ میں دیکھتا تھا کہ لوگ اپنے پیروں کو سونا پیش کرتے ہیں اور آپ کی شان تو اُن سے بہت زیادہ ہے۔ میری خواہش تھی کہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں سونا پیش کروں لیکن عليه الصلوة والسلام زیادہ دیر انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ جو رقم جمع ہوتی میں وہ یہاں آ کر پیش کر جاتا ۔ آخر وہ وقت بھی آ گیا کہ خدا تعالیٰ نے میری تنخواہ بڑھا دی اور اُس نے توفیق دی کہ سونا جمع کر کے میں اپنی خواہش کو پورا کر سکوں لیکن جب یہ وقت آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے ۔ یہ فقرہ کہا ہی تھا کہ ان کی چیخ نکل گئی ۔ پھر وہ کچھ سنبھلے اور کہا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس دنیا میں تھے تو مجھے سونا میسر نہیں تھا اور جب سونا میسر آیا تو آپ اس دنیا سے رُخصت ہو گئے ۔ اُن کے ہاتھ میں اُس وقت پانچ یا سات اشرفیاں تھیں وہ اُنہوں نے مجھے دیں اور کہا یہ اب حضرت (خلیفہ اسیح ) کو دے دی جائیں ۔ وہ لوگ بھی انسان تھے جنات نہیں تھے وہ بھی تمہارے جیسے مرد تھے فرشتے نہیں تھے، اُن کو بھی کھانے پینے کی ضرورت تھی ، اُن کے ساتھ بھی دُنیاوی حوائج لگی ہوئی تھیں لیکن ان کے اندر ایمان کا شعلہ بھڑک رہا تھا اور وہ قربانی کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ خواہ ہم ننگے رہیں لیکن خدا تعالیٰ کا بلند کیا ہو ا جھنڈا اونچا رہے لیکن تم ان سے کئی گنا زیادہ ہو چکے ہو۔ تم احمدیت سے جو لذت حاصل کر رہے ہو یہ لذت وہ حاصل نہیں کرتے تھے ۔ اُس وقت احمدیوں کی تعریف کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ اُس وقت ابھی مرکز کی بنیاد رکھی جا رہی تھی ۔ جیسے مکڑی اپنا جالا بنتی ہے لیکن یہ کہ وہ ڈور ڈور ممالک میں نکل جائیں ،